مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ٹولز اب لوگوں کی روزمرہ زندگی کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی جذبات کو سمجھنے والی اے آئی، مگر کیا اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟
سنہ 2025 کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایک تہائی بالغ افراد چیٹ جی پی ٹی استعمال کر چکے ہیں جبکہ 30 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح 58 فیصد تک ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اے آئی کا ذمہ دارانہ استعمال نہایت ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی کو ’سوچ کے ساتھی‘ کے طور پر استعمال کرنا چاہیے نہ کہ اپنی سوچ کا متبادل بنانا چاہیے۔
مزید پڑھیے: کم عمر بچوں کی جعلی نازیبا تصاویر بنانے کا الزام، ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کیخلاف مقدمہ
انڈرسٹینڈنگ اے آئی نیوز لیٹر کے بانی ٹموتھی بی لی کا کہنا ہے کہ اے آئی کو نئے خیالات پیدا کرنے اور پیچیدہ کاموں کو چھوٹے اور آسان مراحل میں تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا مفید ہے۔ جبکہ اے آئی ایجوکیٹر کیتھرین گوئتزے کے مطابق تخلیقی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اے آئی مددگار ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
پیچیدہ کاموں کے لیے اے آئی سے تحقیق اور ذرائع کا خلاصہ حاصل کیا جا سکتا ہے تاہم معلومات کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے کلاڈ، چیٹ جی پی ٹی اور پرپلیکسیٹی جیسے ٹولز استعمال کیے جا سکتے ہیں جبکہ گوگل کی نوٹ بک ایل ایم ذاتی تحقیق اور نوٹس کو منظم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اے آئی لوگوں کو نئے مشاغل اپنانے، مہارتیں سیکھنے اور روزمرہ کے کاموں کو منظم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔
فریج یونیورسٹی ایمسٹرڈیم کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ایلا ہیفرملز کے مطابق اے آئی نئی سرگرمیوں کے آغاز کو آسان بناتی ہے لیکن اسے صرف ایک ابتدائی نقطہ سمجھنا چاہیے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اے آئی پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پینٹاگون نے وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف کارروائی میں کس اے آئی ماڈل کی مدد لی؟
کیتھرین گوئتزے کے مطابق ذرائع، تاریخوں اور لنکس کی جانچ ضروری ہے جبکہ ایلا ہیفرملز کا کہنا ہے کہ واضح اہداف طے کر کے اے آئی کو حقیقی زندگی کے فیصلوں کے ساتھ معاون کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔












