ماہرین کا روزمرہ زندگی میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور

جمعرات 19 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ٹولز اب لوگوں کی روزمرہ زندگی کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی جذبات کو سمجھنے والی اے آئی، مگر کیا اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

سنہ 2025 کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایک تہائی بالغ افراد چیٹ جی پی ٹی استعمال کر چکے ہیں جبکہ 30 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح 58 فیصد تک ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اے آئی کا ذمہ دارانہ استعمال نہایت ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق اے آئی کو ’سوچ کے ساتھی‘ کے طور پر استعمال کرنا چاہیے نہ کہ اپنی سوچ کا متبادل بنانا چاہیے۔

مزید پڑھیے: کم عمر بچوں کی جعلی نازیبا تصاویر بنانے کا الزام، ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کیخلاف مقدمہ

انڈرسٹینڈنگ اے آئی نیوز لیٹر کے بانی ٹموتھی بی لی کا کہنا ہے کہ اے آئی کو نئے خیالات پیدا کرنے اور پیچیدہ کاموں کو چھوٹے اور آسان مراحل میں تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنا مفید ہے۔ جبکہ اے آئی ایجوکیٹر کیتھرین گوئتزے کے مطابق تخلیقی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اے آئی مددگار ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

پیچیدہ کاموں کے لیے اے آئی سے تحقیق اور ذرائع کا خلاصہ حاصل کیا جا سکتا ہے تاہم معلومات کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے کلاڈ، چیٹ جی پی ٹی اور پرپلیکسیٹی جیسے ٹولز استعمال کیے جا سکتے ہیں جبکہ گوگل کی نوٹ بک ایل ایم ذاتی تحقیق اور نوٹس کو منظم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

اے آئی لوگوں کو نئے مشاغل اپنانے، مہارتیں سیکھنے اور روزمرہ کے کاموں کو منظم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔

فریج یونیورسٹی ایمسٹرڈیم کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ایلا ہیفرملز کے مطابق اے آئی نئی سرگرمیوں کے آغاز کو آسان بناتی ہے لیکن اسے صرف ایک ابتدائی نقطہ سمجھنا چاہیے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اے آئی پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پینٹاگون نے وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف کارروائی میں کس اے آئی ماڈل کی مدد لی؟

کیتھرین گوئتزے کے مطابق ذرائع، تاریخوں اور لنکس کی جانچ ضروری ہے جبکہ ایلا ہیفرملز کا کہنا ہے کہ واضح اہداف طے کر کے اے آئی کو حقیقی زندگی کے فیصلوں کے ساتھ معاون کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟‘ سانحہ بلدیہ کیس میں التوا مانگنے پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ بار انتخابات، صدر سمیت اہم عہدوں کے امیدواروں کی عبوری فہرست جاری

جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف

پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

ویڈیو

حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟

پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

لانگ مارچ کے دوران خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کا خدشہ: قیمتیں آسمان پر، حکومتی اقدامات پر سوالات

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی