پاکستان خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن (سپارکو) نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور ماحولیاتی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر مبنی ’اسپیس فار کلائمٹ‘ اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس منصوبے کا مقصد موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا اور مؤثر حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا جدید سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم متعارف، چولستان ریلی میں کامیاب آزمائش
یہ اقدام ایک جدید جیو اے آئی سے چلنے والی کلائمٹ آبزرویٹری پر مبنی ہے، جو ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔
‘اس پلیٹ فارم میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جغرافیائی تجزیات اور ماڈلنگ کو یکجا کر کے پالیسی سازوں، محققین اور عوام کے لیے قابلِ عمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔’
The Pakistan Space and Upper Atmosphere Research Commission (SUPARCO) has launched the Space4Climate Initiative, featuring a GeoAI-enabled Climate Observatory. By integrating satellite and ground data, it monitors pollutants, greenhouse gases, forests, glaciers, rivers, land use,… pic.twitter.com/Vr7EePxCho
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) March 22, 2026
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نظام ایروسولز، سلفر آکسائیڈز، نائٹروجن آکسائیڈز سمیت فضائی آلودگی، گرین ہاؤس گیسز، جنگلات، گلیشیئرز، ساحلی تبدیلیوں، دریائی نظام اور زمین کے استعمال کی نگرانی کرتا ہے۔
‘یہ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی کی لہروں، غیر معمولی موسمی حالات، سمندر کی سطح میں اضافہ اور گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے جیسے خطرات کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔’
مزید پڑھیں: اسپارکو کا اہم سنگِ میل، پاکستانی خلابازوں کے انتخاب کا دوسرا مرحلہ مکمل
آئی ایس پی آر کے مطابق خلائی اور زمینی ڈیٹا کو یکجا کر کے یہ اقدام شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور پائیدار ترقی میں مدد فراہم کرے گا، جس سے پاکستان کے موسمیاتی اہداف کو عالمی کوششوں کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے گا۔
بیان کے مطابق یہ اہم اقدام پاکستان کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ملک موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے۔














