پاکستان ہائی کمیشن، نئی دہلی نے ‘بیساکھی تہوار’ کے موقع پر بھارت سے تعلق رکھنے والے زائرین کو پاکستان آنے کے لیے ویزے جاری کردیے ہیں۔
پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق 2800 سے زائد زائرین کو ویزے جاری کر دیے ہیں، تاکہ وہ 10 سے 19 اپریل 2026 تک پاکستان میں منعقد ہونے والی سالانہ تقریبات میں شرکت کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: بیساکھی میلہ کیوں منایا جاتا ہے اور سکھ مذہب میں اس کی کیا اہمیت ہے؟
واضح رہے کہ ’بیساکھی‘ ہر سال اپریل کے مہینے میں منایا جانے والا ایک رنگا رنگ تہوار ہے، جو نہ صرف پنجاب کی ثقافت کا خوبصورت عکس پیش کرتا ہے، بلکہ سکھ مذہب میں بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔
बैसाखी उत्सव के अवसर पर, नई दिल्ली स्थित पाकिस्तान उच्चायोग ने भारत से 2800 से अधिक तीर्थयात्रियों को वीज़ा जारी किए हैं, ताकि वे 10 से 19 अप्रैल 2026 तक पाकिस्तान में आयोजित होने वाले वार्षिक उत्सव में भाग ले सकें।
— Pakistan High Commission India (@PakinIndia) April 7, 2026
یہ دن دراصل فصلِ ربیع کی کٹائی کی خوشی میں منایا جاتا ہے، جب کھیت سونے جیسے گیہوں سے بھر جاتے ہیں۔ کسان اس دن قدرت کے انعامات پر شکر ادا کرتے ہیں اور نئی امیدوں کے ساتھ اپنی محنت کا جشن مناتے ہیں۔
تاہم، بیساکھی صرف ایک ثقافتی جشن نہیں بلکہ سکھ برادری کے لیے ایک مقدس اور تاریخی دن بھی ہے۔ 1699ء میں اسی دن سکھ مذہب کے دسویں گرو، گُرو گوبند سنگھ جی نے آنندپور صاحب میں خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھی۔ جس نے سکھوں کو باقاعدہ مذہبی شناخت عطا کی۔
یہ بھی پڑھیے: بیساکھی میلہ کیوں منایا جاتا ہے اور سکھ مذہب میں اس کی کیا اہمیت ہے؟
بیساکھی میلہ ہر سال 13 یا 14 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ جس میں شرکت کے لیے بھارت سمیت دیگرممالک سے ہزاروں غیر ملکی سکھ یاتری پاکستان آتے ہیں اور بلخصوص کرتارپور،ننکانہ صاحب اور گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں حاضری دیتے ہیں۔ اس دن گردواروں میں شبد کیرتن، ارداس اور لنگر کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ عقیدت مند صبح ہی صبح گردواروں کا رُخ کرتے ہیں اور سچائی، خدمت اور بھائی چارے کے پیغام کو تازہ کرتے ہیں۔














