برطانیہ کی جماعت ریفارم یو کے کی جانب سے غلامی کے معاوضے کا مطالبہ کرنے والے ممالک کے شہریوں کو ویزے نہ دینے کی تجویز پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جماعت کے رہنما نائجل فاریج نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو ایسے ممالک کے شہریوں کو ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے جو برطانیہ سے غلامی کے بدلے معاوضے (ریپیریشنز) کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان ممالک میں گھانا اور جمیکا سمیت دولتِ مشترکہ کے کئی سابق نوآبادیاتی ممالک شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ کا 4 ممالک کے طلبا کے لیے اسٹڈی ویزے بند کرنے کا اعلان، وجہ کیا بنی؟
جماعت کے پالیسی سربراہ ضیا یوسف کا کہنا تھا کہ معاوضے کے مطالبات ‘توہین آمیز’ ہیں کیونکہ برطانیہ نے غلامی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
دوسری جانب کیریبین کمیونٹی (کاریکوم) سے منسلک ریپیریشنز کمیشن نے اس تجویز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کمیشن کے سربراہ ہلیری بیکلز نے اسے ‘زہریلی نسل پرستی کی میراث’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو سزا دینا انتہائی افسوسناک ہے۔
یاد رہے کہ افریقی یونین، کیریبین ممالک اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک طویل عرصے سے غلامی اور نوآبادیاتی دور کے اثرات کے ازالے کے لیے مالی معاوضہ، باضابطہ معافی اور تاریخی نوادرات کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے ماہر افرادی قوت کے لیے اٹلی 10,500 ورک ویزے جاری کرے گا
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی کے بجائے مستقبل پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔
ادھر اقوامِ متحدہ نے حال ہی میں گھانا کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد منظور کی، جس میں بحرِ اوقیانوس کے پار غلامی کو ‘انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرم’ قرار دیتے ہوئے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم برطانیہ سمیت کئی سابق نوآبادیاتی طاقتوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔














