پاکستان کے سب سے بڑا موسیقی کا مقابلہ پاکستان آئیڈل سیزن 2 اپنے آغاز سے ہی مختلف تنازعات کا شکار رہا ہے۔ ابتدائی طور پر ججز پینل کو تنقید کا سامنا رہا، اس کے بعد ٹاپ 16 کنٹسٹنٹ ایم ابرار شاہد نے الزامات عائد کیے اور پھر فوٹوگرافر احسن قریشی نے شو کی انتظامیہ کے خلاف واجبات کی عدم ادائیگی پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
اور اب پاکستان آئیڈل کا فائنل ملتوی ہونے پر معروف صحافی نعیم حنیف نے چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے اسے ایک بڑے مالی اسکینڈل سے جوڑ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئیڈل کا فائنل کیوں ملتوی کیا؟ پروڈکشن ٹیم کا حیران کن بیان سامنے آگیا
نعیم حنیف کے دعوے کے مطابق شو کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ وینڈرز، بشمول گرافکس اور لائٹنگ ٹیمز، کو ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان آئیڈل نہیں بلکہ ’فراڈ آئیڈل‘ ہے۔ شو کے تمام وینڈرز چاہے وہ گرافکس کے ہوں یا لائٹس کے کسی کو بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اسٹار ججز اور فنکاروں جن میں راحت اور فواد بھی شامل ہیں ان کے تقریباً 50 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سب کو خاموش رکھا جا رہا ہے اور شو بنانے والی کمپنی انہیں الگ الگ طریقوں سے رابطہ کر کے متحد ہونے سے روک رہی ہے۔ یہ شو ایک بدنامی بن چکا ہے، اسی لیے اس کا فائنل نہ تو شوٹ کیا گیا اور نہ ہی نشر ہوا۔ یہاں تک کہ احسن قریشی کو بھی ادائیگی کی پیشکش کی گئی تاکہ وہ اپنا مقدمہ واپس لے لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئیڈل کا سیٹ بھی توڑ دیا گیا ہے کیونکہ پیسے نہیں دیے جا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئیڈل ایک بار پھر تنازعے کا شکارکیوں ہوگیا؟
واضح رہے کہ مقبول رئیلٹی شو ’پاکستان آئیڈل‘ کے فائنل جس کا انتظار پوری قوم کو تھا فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پروڈکشن ٹیم نے کہا کہ شو رمضان کے دوران وقفہ پر گیا تاکہ اس مہینے کا احترام کیا جا سکے۔ ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ عید کے بعد شو دوبارہ شروع ہو اور فائنل چند ہفتوں میں منعقد ہو گا لیکن ملکی حالات، بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگیاں اور قومی کفایت شعاری کے اقدامات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس پیمانے کے جشن کو ابھی جاری رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔














