امریکا کے نامور دانشوروں اور ماہرین خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات میں پاکستان کے توسیعی سفارتی کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد اب محض ایک میزبان نہیں بلکہ ایک براہِ راست ثالث کے طور پر دنیا کے سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کا کردار قابل تعریف، اعتماد کی بحالی امریکا کی ذمہ داری، محمد باقر قالیباف
اسلام آباد میں 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والے طویل اور اعصابی مذاکرات کے بعد اگرچہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے اس عمل میں پاکستان کی انتھک کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے شاندار قرار دیا۔
Pakistan’s role has shifted from facilitator and go-between to direct mediator and peace negotiator (amid reports of 3-way talks taking place in Islamabad). For now at least, Pakistan’s in the driver’s seat in the difficult & delicate effort to guide the US & Iran to an off ramp.
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) April 11, 2026
اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین نے پاکستان کے بدلتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کا کردار اب محض پیغامات پہنچانے والے سے بدل کر براہِ راست امن مذاکرات کار کا ہو چکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات کی بحالی یا امریکا طالبان مذاکرات کے مقابلے میں موجودہ کوششیں کہیں زیادہ پیچیدہ اور پرجوش ہیں، کیونکہ یہاں پاکستان دو ایسے ممالک کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے جو ایک دوسرے کے سخت ترین مخالف ہیں۔
اسٹیمسن سینٹر میں جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر الزبتھ تھریلکلڈ نے پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مشکل توازن برقرار رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، ہر صورت کامیاب ہوں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ ایک طرف اس کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ ساتھ ہی، پاکستان نے دوسری ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت مہارت سے دوبارہ استوار کیا ہے۔
Some have cited precedents for Pakistani mediation, eg facilitating US-China normalization, helping w/US-Taliban talks.
Let’s be clear: What it’s doing now-trying to end conflict btn two deeply hostile states who see eye to eye on v little -is much more ambitious. A massive lift.— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) April 10, 2026
ان کا کہنا ہے کہ اس نازک موڑ پر دونوں دشمن ممالک کو ایک میز پر بٹھانا ہی پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔
بی بی سی کی واشنگٹن نامہ نگار آئیون ویلز نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، پاکستان نے شکوک و شبہات کو مذاکرات میں بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران: 4 دہائیوں پر محیط دشمنی سے مذاکرات کی میز تک
انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈا یہ تھا کہ وفود کبھی پاکستان نہیں پہنچیں گے، لیکن پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر ختم نہیں ہوئے، لیکن ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سیکیورٹی جیسے حساس معاملات پر پاکستان کا ایک فعال فریق کے طور پر ابھرنا عالمی سیاست میں اس کے بڑھتے ہوئے قد کا واضح ثبوت ہے۔
امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق، جے ڈی وینس کی بھارتی اور پاکستانی رہنماؤں کے ساتھ حالیہ تصاویر خطے میں امریکی پالیسی کے تیزی سے بدلتے ہوئے رخ کی عکاسی کرتی ہیں۔














