پاکستان محض سہولتکار نہیں بلکہ براہِ راست ثالث بن کر ابھرا ہے، امریکی ماہرین خارجہ امور

اتوار 12 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے نامور دانشوروں اور ماہرین خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات میں پاکستان کے توسیعی سفارتی کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد اب محض ایک میزبان نہیں بلکہ ایک براہِ راست ثالث کے طور پر دنیا کے سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کا کردار قابل تعریف، اعتماد کی بحالی امریکا کی ذمہ داری، محمد باقر قالیباف

اسلام آباد میں 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والے طویل اور اعصابی مذاکرات کے بعد اگرچہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے اس عمل میں پاکستان کی انتھک کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے شاندار قرار دیا۔

اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین نے پاکستان کے بدلتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کا کردار اب محض پیغامات پہنچانے والے سے بدل کر براہِ راست امن مذاکرات کار کا ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات کی بحالی یا امریکا طالبان مذاکرات کے مقابلے میں موجودہ کوششیں کہیں زیادہ پیچیدہ اور پرجوش ہیں، کیونکہ یہاں پاکستان دو ایسے ممالک کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے جو ایک دوسرے کے سخت ترین مخالف ہیں۔

اسٹیمسن سینٹر میں جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر الزبتھ تھریلکلڈ نے پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مشکل توازن برقرار رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، ہر صورت کامیاب ہوں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے کہا کہ ایک طرف اس کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ ساتھ ہی، پاکستان نے دوسری ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت مہارت سے دوبارہ استوار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس نازک موڑ پر دونوں دشمن ممالک کو ایک میز پر بٹھانا ہی پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔

بی بی سی کی واشنگٹن نامہ نگار آئیون ویلز نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، پاکستان نے شکوک و شبہات کو مذاکرات میں بدل دیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران: 4 دہائیوں پر محیط دشمنی سے مذاکرات کی میز تک

انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈا یہ تھا کہ وفود کبھی پاکستان نہیں پہنچیں گے، لیکن پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر ختم نہیں ہوئے، لیکن ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سیکیورٹی جیسے حساس معاملات پر پاکستان کا ایک فعال فریق کے طور پر ابھرنا عالمی سیاست میں اس کے بڑھتے ہوئے قد کا واضح ثبوت ہے۔

امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق، جے ڈی وینس کی بھارتی اور پاکستانی رہنماؤں کے ساتھ حالیہ تصاویر خطے میں امریکی پالیسی کے تیزی سے بدلتے ہوئے رخ کی عکاسی کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی