اسلام آباد میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے افسران کی خصوصی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی شریک ہوئے۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایف آئی اے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ سال کے اختتام تک یہ ایک نئی طرز کا مؤثر ادارہ بن چکا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل، 4 افسران کے استعفے منظور
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہارڈننگ دی اسٹیٹ’ پالیسی میں ایف آئی اے کا کردار نہایت اہم ہے اور اسے ملک بھر میں وفاقی حکومت کی مؤثر رِٹ قائم کرنے کے لیے مضبوط ترین اور قابلِ اعتماد ادارہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایف آئی اے میں ترقیوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی اور کانسٹیبلز و اے ایس آئیز کو ان کا حق دیا جائے گا، کیونکہ پروموشن ہر اہلکار کا بنیادی حق ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے کے تمام دفاتر کی حالت بہتر بنائی جائے گی اور اہلکاروں کو درکار سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑیاں آرڈر کی جا چکی ہیں جبکہ تھانوں اور دیگر یونٹس کے لیے سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے، جو جلد مکمل ہوگا۔
محسن نقوی نے کرپشن کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی بھی بدعنوان عنصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ادارے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا چھاپہ، لینڈ ریکارڈ روم سیل
انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے کی افرادی قوت میں اضافہ ناگزیر ہے کیونکہ 2008 کی نفری کے ساتھ موجودہ چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں۔ امیگریشن، اینٹی کرپشن اور ہیومن ٹریفکنگ جیسے شعبوں میں مزید اہلکاروں کی ضرورت ہے، جبکہ بڑے ایئرپورٹس پر اہلکار طویل شفٹوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے ایف آئی اے کے شہدا کے خاندانوں کے لیے پلاٹس دینے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ویلفیئر کا جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جس میں تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔














