وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ بحران کو حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا ‘سپلائی شاک’ قرار دیدیا ہے۔
بدھ کے روز وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ بہار اجلاس 2026 کے موقع پر ایک اہم نشست میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بہترین سفارتکاری، دنیا میں ہمیں جو تحسین مل رہی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی، وزیرخزانہ کی واشنگٹن میں گفتگو
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (ایم ای این اے پی) خطے کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز اور عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔

اپنے خطاب کے دوران وزیرِ خزانہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ بحران کو حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا ‘سپلائی شاک’ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے ان حالات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں، جن میں درآمدی حکمتِ عملی، قیمتوں کے تعین کے نظام اور لاجسٹکس میں ضروری تبدیلیاں شامل ہیں تاکہ عالمی سپلائی چین میں تعطل کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اجلاسوں کے لیے امریکا روانہ
سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت اب وسیع پیمانے پر دی جانے والی عام سبسڈیز کے بجائے ‘ٹارگیٹڈ سپورٹ’ (ہدفی معاونت) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاکہ قومی وسائل کا رخ براہِ راست معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کی جانب موڑا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر عالمی بحران کے طویل مدتی اثرات، خصوصاً مہنگائی، برآمدات، ترسیلاتِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ پر پڑنے والے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ پاکستان نے ماضی کے تجربات، خاص طور پر حالیہ سیلابوں سے اہم اسباق سیکھے ہیں اور اب ملک مضبوط پالیسی بنیادوں کے ساتھ عالمی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزیر خزانہ کا دورہ پاکستان اختتام پذیر، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے رخصت کیا
انہوں نے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سطح پر کی جانے والی تمام تبدیلیاں انتہائی ذمہ داری سے کی جا رہی ہیں اور ملک کے معاشی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ مسلسل تعاون اور قریبی روابط کو سراہا۔














