امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی پیشگی اجازت سے متعلق قرارداد مسترد کر دی۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد 47 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے ناکام ہوئی۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کی برطانیہ سے تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے خلاف جاری آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے لیے 2 ہفتوں کے اندر کانگریس سے منظوری لینا ضروری تھا، بصورت دیگر 29 اپریل تک یہ کارروائی روکنا لازم تھا۔ 1973 کے جنگی اختیارات کے قانون کے تحت اگر منظوری حاصل نہ کی جائے تو امریکی صدر کو 60 دن کے بعد فوجی کارروائیاں ختم کرنا ہوتی ہیں۔
🚨 NOW: US Senate votes AGAINST stopping arms sales to Israel, 40-59
A whopping 85% of Senate Democrats supported the move
It was brought by Sen. Bernie Sanders pic.twitter.com/BV3eZZTDrD
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) April 15, 2026
دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو فوجی امداد سے متعلق بھی اہم قراردادیں منظور نہ ہو سکیں۔ اسرائیلی فوج کے لیے امریکی بلڈوزرز کی فراہمی روکنے کی قرارداد 40 کے مقابلے میں 59 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی، جس میں 40 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے حمایت کی۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم کے 3ممالک کے دورے، ڈونلڈ ٹرمپ کی فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی بھرپور تعریف
یہ بل سینیٹر برنی سینڈرز کی قیادت میں پیش کیا گیا تھا، جس کا مقصد اسرائیل کے لیے غیر مشروط امریکی حمایت کو چیلنج کرنا تھا۔ اسی طرح اسرائیل کو ایک ہزار پاؤنڈ بموں کی فراہمی روکنے سے متعلق ایک اور بل بھی پیش کیا گیا، جس کے حق میں 36 سینیٹرز نے ووٹ دیا جبکہ اکثریت نے مخالفت کی۔














