کیا امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور نتیجہ خیز ثابت ہو پائےگا؟

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگ بندی کی مدت کے اختتام کے قریب پہنچنے سے کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطے کسی ممکنہ پیش رفت کی امید دلا رہے ہیں، تو دوسری جانب بیانات، ردعمل اور جوابی اقدامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

قریباً نصف صدی پر محیط بد اعتمادی اور تنازعات کے اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات کے دوسرے دور میں کوئی بریک تھرو ہو سکے گا یا یہ عمل بھی ماضی کی طرح طویل اور غیر یقینی ثابت ہوگا؟ اور اگر بات چیت آگے بڑھتی ہے تو کن نکات پر اتفاقِ رائے ممکن ہو سکتا ہے؟

مزید پڑھیں: ایران کے پاس آخری موقع، اوباما دور جیسی غلطی کو نہیں دہرائیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے پالیسی کا اظہار ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے، مسعود خالد

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر مسعود خالد نے کہاکہ حالیہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے تھے، قریباً 80 فیصد معاملات طے پا چکے تھے، اور صرف چند اہم نکات باقی رہ گئے تھے، تاہم اچانک بیانات اور غیر روایتی سفارتی انداز نے اس پیشرفت کو متاثر کیا اور معاملات میں پیچیدگی پیدا ہوگئی۔

ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے پالیسی کا اظہار ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے، اس طرزِ عمل نے نہ صرف کنفیوژن پیدا کی بلکہ اعتماد سازی کے عمل کو بھی نقصان پہنچایا۔

مسعود خالد کہتے ہیں کہ بین الاقوامی جریدے دی گارڈین نے بھی اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ غیر محتاط بیانات نے مذاکراتی فضا کو متاثر کیا۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں ٹِٹ فار ٹَیٹ یعنی جوابی اقدامات کا سلسلہ انتہائی خطرناک ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اسی کشیدگی کی ایک کڑی ہے، جس سے پہلے سے جاری پیشرفت کو دھچکا لگا اور دونوں فریقین کے مؤقف مزید سخت ہوگئے، ان کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ باہمی اعتماد کی شدید کمی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان نے اس تمام عمل میں فعال سفارتی کردار ادا کیا اور یہ توقع کی جا رہی تھی کہ چند دنوں میں کوئی مثبت پیشرفت سامنے آئے گی، تاہم اب صورتحال کافی حد تک امریکی قیادت کے رویے پر منحصر ہے، جبکہ ایران بھی اپنے مؤقف پر سختی سے قائم دکھائی دیتا ہے اور دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مسعود خالد کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے دو بنیادی پہلو ہیں آبنائے ہرمز کی حیثیت اور ایران کا جوہری پروگرام۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران ان معاملات پر لچک دکھاتا ہے تو امریکا کو بھی اسی نوعیت کا ردعمل دینا ہوگا، بصورت دیگر حالات دوبارہ تصادم کی طرف جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس کشیدگی سے بالواسطہ فائدہ اسرائیل کو ہو سکتا ہے، جبکہ امریکا میں موجود اسرائیلی اثر و رسوخ بھی پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اقتصادی پہلو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیاکہ اگر تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے منفی اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑیں گے، کیونکہ پاکستان تیل کی درآمد پر انحصار کرتا ہے اور اس کے پاس محدود اسٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے سفارتی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جب تک تمام معاملات پر مکمل اتفاق نہ ہو جائے، کسی ایک نکتے پر بھی حتمی اتفاق نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم امید ہے کہ بین الاقوامی دباؤ اور سفارتی کوششوں کے باعث آئندہ دنوں میں کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔

فوری اور حتمی معاہدے کی توقع کرنا مناسب نہیں، جلیل عباس جیلانی

سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں کے باعث معاملات میں پیش رفت ضرور ہو رہی ہے، تاہم اس حوالے سے توقعات کو حقیقت پسندانہ رکھنا ضروری ہے۔

ان کے بقول ایران اور امریکا کے درمیان قریباً 50 برس پر محیط کشیدگی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی فوری اور حتمی معاہدے کی توقع کرنا مناسب نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار بنیادی طور پر دونوں فریقین کی لچک اور باہمی رعایت دینے کی صلاحیت پر ہوگا۔

جلیل عباس جیلانی کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے منطقی قدم جنگ بندی میں توسیع اور مذاکراتی عمل کا تسلسل ہونا چاہیے۔ اگر فریقین فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو تک نہ بھی پہنچ سکیں، تو کم از کم کشیدگی کو کم رکھنے اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق انتہائی اہم ہوگا، تاکہ اعتماد سازی کا عمل متاثر نہ ہو اور بات چیت کا دروازہ کھلا رہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس تنازع کی نوعیت انتہائی پیچیدہ ہے، جس میں سیکیورٹی، سیاسی اور جوہری معاملات جیسے حساس پہلو شامل ہیں۔ اس لیے ایک ہی نشست میں تمام مسائل کا حل ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے صبر، تسلسل اور متعدد مذاکراتی ادوار درکار ہوں گے۔

ان کے مطابق ماضی کی مثالیں بھی یہی بتاتی ہیں کہ ایسے تنازعات مرحلہ وار بات چیت اور طویل سفارتی عمل کے ذریعے ہی حل ہوتے ہیں۔

جلیل عباس جیلانی کا مزید کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق نہ صرف عالمی معیشت خصوصاً توانائی کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال بھی بگڑ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح تک محسوس کیے جائیں گے، اسی لیے ان کے نزدیک سفارتکاری کا تسلسل اور کشیدگی میں کمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ پیشرفت کو ایک محتاط مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے، آصف درانی

سابق سفارتکار اور سیکیورٹی ماہر آصف درانی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ پیشرفت کو ایک محتاط مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے۔

ان کے بقول اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی حتیٰ کہ محدود نوعیت کی جنگی صورتحال بھی رہی، تاہم جنگ بندی کا ہونا بذاتِ خود ایک اہم اور مثبت پیشرفت تھی۔

انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور کھلنے کا عمل دراصل خطے کی دیگر پیشرفت خصوصاً اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی سے جڑا ہوا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تنازع ایک وسیع تر علاقائی تناظر رکھتا ہے۔

آصف درانی کے مطابق موجودہ صورتحال میں ٹِٹ فار ٹَیٹ یعنی جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر ایک فریق دباؤ بڑھاتا ہے، مثلاً پابندیاں یا بحری راستوں کی بندش، تو دوسرا فریق بھی اسی نوعیت کا ردعمل دیتا ہے۔

ان کے نزدیک یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک دونوں ممالک کے درمیان کوئی جامع اور حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کی جڑیں بہت گہری ہیں، جو ایرانی انقلاب 1979 کے بعد سے مسلسل موجود ہیں۔ اسی لیے یہ توقع رکھنا کہ چند مذاکراتی ادوار میں تمام مسائل حل ہو جائیں گے، حقیقت پسندانہ نہیں۔

ان کے مطابق ماضی کی طرح اس بار بھی مذاکرات ایک طویل عمل ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ مسائل کی نوعیت پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہے۔

آصف درانی کے مطابق بنیادی ایشوز میں ایران کا جوہری پروگرام، اس کے خلاف عائد پابندیوں کا خاتمہ، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان معاملات پر بات چیت جاری ہے اور کچھ حد تک پیش رفت بھی ہوئی ہے، تاہم ابھی حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے مزید وقت اور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

جنگ بندی کے مستقبل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ قبل از وقت کہنا مشکل ہے کہ آیا مکمل جنگ بندی ہوگی یا محض عارضی توسیع۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات: امریکی سیکیورٹی ٹیم کے خصوصی طیارے پاکستان پہنچ گئے

ان کے مطابق یہ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ ایران اور امریکا ان اہم نکات پر کس حد تک کوئی مشترکہ سمجھوتہ قائم کر پاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جب تک مذاکرات کا عمل جاری ہے، امید باقی ہے۔ لیکن جیسے ہی مکالمے کا دروازہ بند گیا تو صورتحال دوبارہ تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دنیش ترویدی بنگلہ دیش میں نئے بھارتی ہائی کمشنر ہوں گے؟

بلغاریہ میں روس نواز سابق صدر رومین رادیف عام انتخابات میں بڑی کامیابی کے قریب

متحدہ عرب امارات کی تاریخ میں پہلی بار 5 کرکٹرز کو شہریت مل گئی، قومی ٹیم میں شامل

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کیا ہے، کیا اب ورچوئل کرنسی بھی عام کرنسی کی طرح کام کرے گی؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آج مقدمات کی سماعتیں منسوخ کر دیں

ویڈیو

پاکستان دنیا بھر میں امن کا سفیر بن کر سامنے آیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

‘پاؤں نہیں مگر ہاتھ تو ہیں نا’، فور ویل بائیکیا چلا کر گھر کی کفالت کرنے والا باہمت نوجوان

کالم / تجزیہ

پاکستان مسلم دنیا کا قائد اور اقوام عالم میں قابل اعتبار ثالث

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟