نئی اے آئی چپ تیار، توانائی کے استعمال میں 70 فیصد کمی ممکن

جمعرات 23 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہرین نے ایک نئی قسم کا اے آئی چپ تیار کیا ہے جو توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق کے مطابق یہ چپ روایتی آکسائیڈ بیسڈ میمرسٹرز کے مقابلے میں تقریباً 10 لاکھ گنا کم سوئچنگ کرنٹ پر کام کرتا ہے جو اے آئی انڈسٹری کے ایک بڑے مسئلے یعنی بڑھتی ہوئی توانائی کی کھپت کا مؤثر حل بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا

موجودہ اے آئی ماڈلز میں ڈیٹا کو مسلسل اسٹوریج اور کمپیوٹنگ سسٹمز کے درمیان منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے توانائی کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مختلف شعبوں میں اے آئی کا استعمال بڑھ رہا ہے، یہ لاگت بھی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اے آئی ڈیٹا سینٹرز دنیا میں توانائی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات میں شامل ہو چکے ہیں۔ کیمبرج کے محققین نے اس مسئلے کا حل ڈیٹا ٹرانسفر کو ختم کرنے کی صورت میں پیش کیا ہے۔

روایتی میمرسٹر ڈیوائسز میں دھاتی آکسائیڈ کے اندر ننھے فلامنٹس بنائے جاتے ہیں جو غیر مستحکم ہوتے ہیں اور زیادہ وولٹیج کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس نئی ٹیکنالوجی میں ہافنیم کی باریک تہہ استعمال کی گئی ہے جسے اسٹرونٹیم اور ٹائٹینیم سے بہتر بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: کیا بڑے سائز کے ڈیٹا سینٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

اس تحقیق کی قیادت ڈاکٹر بابک بخیت نے کی جن کے مطابق نئی ڈیوائس فلامنٹ بنانے کے بجائے انٹرفیس لیئرز میں توانائی کی رکاوٹ کو تبدیل کر کے کام کرتی ہے جس سے کارکردگی زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد ہو جاتی ہے۔

ٹیسٹنگ کے دوران یہ ڈیوائس ہزاروں سوئچنگ سائیکلز میں مستحکم رہی اور اس میں ’اسپائک ٹائمنگ ڈیپینڈنٹ پلاسٹیسٹی‘ جیسی خصوصیت بھی دیکھی گئی جو حیاتیاتی نیورونز کی طرح سیکھنے کے عمل سے متعلق ہے۔

یہ چپ 100 سے زائد مختلف کنڈکٹنس لیولز کو محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو جدید اینالاگ اِن میموری کمپیوٹنگ کے لیے ضروری ہے اور ایک ایسی صلاحیت جو موجودہ میمرسٹر ٹیکنالوجی میں محدود ہے۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کو اس وقت تقریباً 700 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت درکار ہے جو موجودہ سیمی کنڈکٹر معیارات سے زیادہ ہے۔

ڈاکٹر بابک کے مطابق اس مقام تک پہنچنے کے لیے 3 سال تک مسلسل کوششیں کی گئیں اور اب ٹیم اس درجہ حرارت کو کم کرنے پر کام کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ’اے آئی سیکھو 2026‘ پروگرام کا آغاز، پاکستانی نوجوانوں کے لیے مفت مصنوعی ذہانت کی تربیت

یہ پیشرفت مستقبل میں زیادہ مؤثر، کم توانائی استعمال کرنے والی اے آئی ٹیکنالوجی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار