وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور ثناء بلوچ میں سیاسی بیان بازی، معاملہ کیا ہے؟

ہفتہ 25 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں ہونے والے ماضی کے’فیصلوں‘ پر صوبے کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی سیاسی بیان بازی نے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’بلوچستان امن چاہتا ہے‘، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا افغان حکومت کو سخت پیغام

 گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماضی میں کیے گئے بعض فیصلوں نے صوبے کو تعلیمی میدان میں شدید نقصان پہنچایا۔ ایک فیصلے کے تحت پنجاب سے تعلق رکھنے والے ماہر اساتذہ کو واپس بھیج دیا گیا جس کے باعث بلوچستان دہائیوں پیچھے چلا گیا۔ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر آگے لانا ہی ریاست سے ان کی دوری کم کرنے کا واحد حل ہے۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر ثناء بلوچ نے وزیر اعلیٰ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے پرانا اور بے بنیاد بیانیہ قرار دیا۔

سینیٹر ثناء بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پنجاب کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اس نوعیت کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی سرکاری حکم یا دستخط شدہ فیصلہ موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوا ہوتا تو اس کی دستاویزی شہادت پیش کی جائے۔ ثناء بلوچ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں بلوچستان کے مختلف سرکاری عہدوں پر اردو اور پنجابی بولنے والے افراد تعینات رہے لہٰذا لسانی بنیادوں پر بیانیہ تشکیل دینا مناسب نہیں اور اس سے صوبے میں نفرتیں بڑھتی ہیں۔

اس معاملے پر وزیر اعلیٰ کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ثناء بلوچ کے مؤقف کو حقیقت سے فرار اور سیاسی منافقت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض سیاسی قیادت نے تعلیم کے فروغ کے بجائے نوجوانوں کو پیچھے رکھا جبکہ دیگر رہنماؤں نے باہر سے ماہر اساتذہ لا کر تعلیمی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش کی۔

شاہد رند کے مطابق پنجاب مخالف بیانیہ محض سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور موجودہ حکومت تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

مزید پڑھیے: بلوچستان میں ڈھائی سالہ اقتدار کا فارمولہ، سرفراز بگٹی کی کرسی خطرے میں؟

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی تنقید یا دباؤ سے متاثر ہوئے بغیر اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق معاملہ محض ایک بیان یا ردعمل تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کی طویل المدتی تعلیمی اور سیاسی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔

ایک جانب حکومت ماضی کے فیصلوں کو صوبے کی پسماندگی کی وجہ قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن ان دعوؤں کو سیاسی بیانیہ اور حقائق سے ہٹ کر قرار دے رہی ہے۔

 اس بحث میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ لسانی اور علاقائی حساسیت کو کس حد تک سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ تعلیم کی بہتری پر سب متفق دکھائی دیتے ہیں لیکن ماضی کی ذمہ داریوں کا تعین اور بیانیے کی سمت اب بھی سیاسی اختلاف کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: ضلع شیرانی ختم نہیں کیا جا رہا، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تاریخی حقائق کو دستاویزی بنیادوں پر واضح کیا جائے اور تعلیمی اصلاحات کو سیاسی تنازعات سے بالا رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp