جنوبی لبنان میں معصوم مسیحیوں پر اسرائیلی حملے، خانقاہ اور راہبات کا اسکول تباہ

جمعہ 1 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لبنان کے جنوب میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران ایک خانقاہ اور راہبات کا اسکول تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل گھروں، دکانوں، سڑکوں اور دیگر مقامی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت 10 ممالک کی اسرائیل کے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید مذمت

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سرحدی گاؤں یارون کے کئی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جہاں جاری کشیدگی کے دوران پورے کے پورے محلے ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی حکام کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ غزہ کی طرز پر تباہی کو اب لبنان کے کچھ حصوں میں دہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنوبی لبنان کے مسیحی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور گزشتہ ماہ ایک واقعے میں اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو نقصان پہنچانے (شہید کرنے) کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

دوسری جانب جنوبی شہر دیر قانوں راس العین پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حبوش، کفرا، مجدل زون اور شہر صور کے نواحی علاقوں پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیے: غزہ امدادی قافلے کی ناکہ بندی، اقوام متحدہ کی اسرائیل پر کڑی تنقید

لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 2,618 افراد جان سے جاچکے ہیں۔

جنگ بندی اور سفارتی کوششیں

لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکی سفیر مشیل عیسیٰ سے ملاقات میں جنگ بندی اور شہریوں و بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی وارننگ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران اب اپنی تیسری ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا بوجھ پوری انسانیت اٹھا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں بچے قوتِ گویائی سے کیوں محروم ہو رہے ہیں؟

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو جنگ بندی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ایک جامع، پائیدار اور پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp