لبنان کے جنوب میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران ایک خانقاہ اور راہبات کا اسکول تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل گھروں، دکانوں، سڑکوں اور دیگر مقامی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت 10 ممالک کی اسرائیل کے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید مذمت
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سرحدی گاؤں یارون کے کئی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جہاں جاری کشیدگی کے دوران پورے کے پورے محلے ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی حکام کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ غزہ کی طرز پر تباہی کو اب لبنان کے کچھ حصوں میں دہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
استقبل رئيس الجمهورية العماد جوزاف عون في قصر بعبدا ظهر اليوم السفير الأميركي في لبنان ميشال عيسى بعد عودته من واشنطن وعرض معه التطورات الراهنة لا سيما ملف تثبيت وقف اطلاق النار ووقف استهداف المدنيين والمنشآت المدنية تمهيدا لاستكمال الاجتماعات في واشنطن ما يؤدي الى تحقيق انجاز… pic.twitter.com/g4nuQlj0FF
— Lebanese Presidency (@LBpresidency) May 1, 2026
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنوبی لبنان کے مسیحی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور گزشتہ ماہ ایک واقعے میں اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو نقصان پہنچانے (شہید کرنے) کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
دوسری جانب جنوبی شہر دیر قانوں راس العین پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حبوش، کفرا، مجدل زون اور شہر صور کے نواحی علاقوں پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مزید پڑھیے: غزہ امدادی قافلے کی ناکہ بندی، اقوام متحدہ کی اسرائیل پر کڑی تنقید
لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 2,618 افراد جان سے جاچکے ہیں۔
جنگ بندی اور سفارتی کوششیں
لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکی سفیر مشیل عیسیٰ سے ملاقات میں جنگ بندی اور شہریوں و بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
The Middle East crisis is in its third month & the whole of humanity is paying the price.
All sides must refrain from actions that could undermine the ceasefire. The world needs a peaceful, comprehensive, and durable resolution to the conflict.
— António Guterres (@antonioguterres) May 1, 2026
اقوام متحدہ کی وارننگ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران اب اپنی تیسری ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا بوجھ پوری انسانیت اٹھا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ میں بچے قوتِ گویائی سے کیوں محروم ہو رہے ہیں؟
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو جنگ بندی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ایک جامع، پائیدار اور پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔














