اسماعیلیوں کے 50ویں امام اور آغا خان پنجم، پرنس رحیم شاہ الحسنی، رواں ماہ کے آخر میں ایک ہفتے کے دورے پر پاکستان آ رہے ہیں، جس کے لیے ان کے مریدوں کی جانب سے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
اسماعیلیوں کے ذمہ دار ادارے، اسمٰعیلی کونسل، نے پرنس رحیم آغا خان پنجم کے دورۂ پاکستان کی تصدیق کی ہے اور اپنی جماعت کو جاری ایک سرکلر میں بتایا ہے کہ پرنس رحیم، 50ویں امام کی حیثیت سے پاکستان کا پہلا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ 20 مئی کو اسلام آباد پہنچیں گے اور 26 مئی تک پاکستان میں قیام کریں گے۔
50ویں امام کے طور پر پرنس رحیم کا پہلا دورہ
پرنس شاہ رحیم الحسنی اسماعیلی فرقے کے 50ویں موروثی امام ہیں، جنہوں نے اپنے والد اور 49ویں امام، شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم، کے انتقال کے بعد فروری 2025 میں امامت سنبھالی۔ امامت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد پرنس رحیم آغا خان کا بطور 50ویں امام یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے، جس کی حتمی تاریخ سامنے آنے کے بعد ان کے ماننے والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے لزبن، اسماعیلی برادری کے 50ویں امام پرنس رحیم آغا خان پنجم تخت نشین ہوگئے
اسماعیلی کونسل کے مطابق، پرنس رحیم آغا خان نے 50ویں موروثی امام کے طور پر منصب سنبھالنے کے بعد اپنی جماعت سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اب تک یورپ، کینیڈا سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں جماعت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں، جبکہ ان کا دورۂ پاکستان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
پاکستان دورے کے دوران مصروفیات کیا ہوں گی؟
اسماعیلی کونسل اور دیگر ذرائع کے مطابق، پرنس شاہ رحیم 20 سے 26 مئی تک پاکستان میں قیام کریں گے۔ دورے کا آغاز اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات سے ہوگا، جبکہ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) کے کام کا بھی جائزہ لیں گے۔
شاہ رحیم کے دورے کا اہم حصہ اپنے پیروکاروں سے ملاقات ہے، جس کے لیے سب سے زیادہ وقت مختص کیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، وہ اپنے دورے کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں اپنے پیروکاروں سے ملاقات کریں گے، جو 22 مئی سے 26 مئی تک ہوگی۔
دورے کے شیڈول سے باخبر ذرائع کے مطابق، پرنس رحیم گلگت، ہنزہ، اشکومن، پونیال، گوپس اور یاسین میں اپنے پیروکاروں سے ملاقات کریں گے، جس کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا چکی ہے اور مقامی طور پر دیدار کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے پرنس رحیم آغاخان کا وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو خط، سیلاب کی تباہی سے نمٹنے کے لیے تعاون کی یقین دہانی
پرنس رحیم چترال کا بھی دورہ کریں گے اور اپر چترال کے مستوج میں پیروکاروں سے ملاقات کریں گے، جبکہ لوئر چترال میں گرم چشمہ کے مقام پر دیدار ہوگا۔
امام کی آمد کے موقع پر گلگت بلتستان اور چترال میں جشن کا سماں ہے۔ پیروکار امام کی آمد پر رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ملاقات کے مقام کو ’دیدار گاہ‘ کہا جاتا ہے، جسے تیار کیا جا چکا ہے۔ اسٹیج بنایا گیا ہے، جبکہ رضاکاروں کی جانب سے سڑکوں کی مرمت کا کام بھی جاری ہے۔

گلگت بلتستان اور چترال میں دیگر مسالک کے علماء نے بھی دیدار گاہوں کا دورہ کر کے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ اسماعیلیوں کے 49ویں امام، پرنس کریم آغا خان، سال 2017 میں چترال آئے تھے اور بونی اور گرم چشمہ میں جماعت سے ملاقات کی تھی۔
پرنس رحیم کے دورۂ پاکستان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ چترال اور گلگت بلتستان میں مقامی آبادی کی زندگی کو بہتر بنانے میں ان کے اداروں کا اہم کردار ہے، جہاں صحت، تعلیم، سماجی بہبود اور دیگر شعبوں میں آغا خان کے ادارے سرگرم ہیں۔
مختصر پس منظر
پرنس شاہ رحیم الحسنی اسماعیلی فرقے کے 49ویں امام، پرنس شاہ کریم الحسنی، کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ وہ 12 اکتوبر 1971 کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئے۔
پرنس رحیم نے اپنی ابتدائی تعلیم سوئٹزرلینڈ میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے امریکا کی ایک معروف یونیورسٹی سے تقابلی ادب میں بیچلر ڈگری حاصل کی ہے۔













