اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف 6 سے اغوا ہونے والے نوجوان کے لرزہ خیز قتل نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، تحقیقات ابھی جاری ہیں جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا بھی انتظار ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے علاقے ایف 6 سے اغوا ہونے والے نوجوان فرخ افضل کی لاش خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی سے برآمد ہوئی، ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتول کو 3 مئی کی رات گھر کے باہر سے اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ معمول کے مطابق باہر موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی کارروائی، اندھے قتل کا ملزم گرفتار
مقتول کے والد کے مطابق نے گھر کے باہر سے اچانک شور کی آواز سن کر وہ باہر نکلے تو دیکھا کہ 4 سے 5 مسلح افراد فرخ کو زبردستی ایک گاڑی میں ڈال رہے ہیں، اہلِ محلہ نے مزاحمت کی کوشش کی، مگر اغوا کاروں نے فائرنگ کر دی، جس کے باعث وہ اپنے بیٹے کو بچانے میں ناکام رہے۔
واقعے کے فوری بعد پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی گئی اور تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
اسلام آباد کے پوش ترین سیکٹر ایف سکس سے اغواء ہونیوالے نوجوان اور والدین کے اکلوتے بیٹے کی تشدد زدہ لاش مردان سے برآمد ،فرخ افضل کو گزشتہ رات ایف سکس گھر کے باہر سے مبینہ طور کے پی کے پولیس آفیسر کے بیٹے نے دوستوں کے ہمراہ اغواء کیا اور اغواء کے چند گھنٹے بعد ہی فرخ کو تشدد سے… pic.twitter.com/qxLlLQvw9p
— ijaz cheema (@chemajournalist) May 4, 2026
چند گھنٹوں بعد اطلاع ملی کہ نوجوان کی لاش صوابی کے ایک اسپتال میں موجود ہے، جس پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔
پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا اور تھانہ کوہسار کی ٹیم مقتول کے والد کے ہمراہ خیبرپختونخوا روانہ ہو گئی، بعد ازاں پتہ چلا کہ لاش مردان کے علاقے سرگڑھ کے قریب منتقل کی گئی تھی، جہاں سے پولیس کو مزید شواہد ملے۔

پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں اور مختلف پہلوؤں پر کام کرتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگایا، جس کے بعد کارروائی کا دائرہ سوات تک پھیلایا گیا۔
سوات میں چھاپہ مار کر کارروائی کے دوران مرکزی ملزم سیف اللہ اور اس کی مبینہ ساتھی خاتون ماہ نور کو گرفتار کر لیا گیا، اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی آپریشنل کمانڈرز کانفرنس، کارکردگی اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ
پولیس حکام کے مطابق ملزمان کو اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں مزید تفتیش کی جائے گی، ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ کسی ذاتی تنازعے کا شاخسانہ لگتا ہے، تاہم حتمی حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
تاحال موت کی وجہ واضح نہیں ہو سکی، کیونکہ بظاہر جسم پر کوئی مہلک زخم نظر نہیں آیا، تاہم تشدد کے آثار موجود ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی جلد متوقع ہے۔












