عوامی آواز کو براہ راست ایوان تک پہنچانے کا تاریخی اقدام، پنجاب اسمبلی نے ’پبلک پٹیشنز‘ کا نیا نظام متعارف کرا دیا

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اب پنجاب کے عام شہری، خواہ وہ کسان ہوں، طلبہ ہوں، تاجر ہوں یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے اہم عوامی مسائل جیسے سڑکوں کی مرمت، پانی کی کمی اور تعلیم و صحت سے متعلق مسائل براہِ راست اسمبلی کے ایوان میں اٹھا سکیں گے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے عوامی مسائل کو براہ راست صوبائی اسمبلی کے ایوان تک پہنچانے کے لیے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے پبلک پٹیشنز کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا ایک اور سنگ میل، ’جنرل انشورنس کمپنی‘ متعارف کرانے والا پہلا صوبہ بن گیا

اس اقدام سے عام شہری اب پنجاب اسمبلی میں اہم عوامی معاملات پر پبلک پٹیشن دائر کر سکیں گے، جس سے عوام کو قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل میں براہ راست شمولیت کا موقع ملے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق عام شہری اب پنجاب اسمبلی میں عوامی دراخوست جمع کرا سکیں گے۔ تاہم اس کے لیے کم از کم 200 افراد کے دستخط کروانا لازمی ہوں گے۔

پٹیشن صرف اہم نوعیت کے عوامی معاملات پر ہوگی، جو حکومت یا اس کے ماتحت اداروں سے متعلق ہوں۔ پٹیشن دائر کرنے والے افراد میں سے زیادہ سے زیادہ پانچ لیڈ پٹیشنرز نامزد کیے جا سکیں گے جو کیس کی نمائندگی کریں گے۔

پٹیشن ہارڈ کاپی میں رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعے یا الیکٹرانک طور پر اسمبلی کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے جمع کرائی جا سکے گی۔

اسکروٹنی کمیٹی کی تشکیل اور کارروائی

اس حوالے سے ایک خصوصی اسکروٹنی کمیٹی کام کرےگی، جس کی سربراہی ڈپٹی اسپیکر کریں گے۔ کمیٹی ہر پٹیشن کا جائزہ لے کر 30 دن کے اندر اپنی سفارشات مرتب کرے گی اور انہیں اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرے گی۔

اسپیکر ان سفارشات کی بنیاد پر پٹیشن کی منظوری کا فیصلہ کریں گے اور اسے متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی یا محکمے کے پاس بھیج سکیں گے۔

کمیٹی ماہانہ کم از کم ایک بار ضرور اجلاس کرے گی تاکہ یہ عمل مسلسل جاری رہے۔ اگر پٹیشن متعدد محکموں سے متعلق ہو تو اسپیکر خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔

پبلک پٹیشن جمع کروانے کے لیے فارم پنجاب اسمبلی کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکے گا۔ پٹیشن میں ایک واضح، واحد مسئلہ بیان کرنا لازمی ہوگا اور اس میں توہین آمیز مواد، ذاتی شکایات، عدالت میں زیر التوا مقدمات یا پہلے سے فیصلہ شدہ معاملات شامل نہیں ہو سکیں گے۔

اسپیکر ملک احمد خان کا عوام کو پارلیمانی عمل کا فعال حصہ بنانے کا عزم

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اس اقدام کے ذریعے واضح طور پر عوام کو پارلیمانی عمل کا فعال حصہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی اب صرف اراکین اسمبلی کی آواز نہیں بلکہ عام شہریوں کی آواز کو بھی براہ راست سننے اور اس پر کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

ملک احمد خان نے کہاکہ یہ اقدام عوامی مسائل جیسے گورننس کی ناکامیوں، سروس ڈلیوری کے مسائل اور پالیسی خامیوں کو فوری طور پر ایوان میں اٹھانے کا مؤثر ذریعہ بنے گا۔ یہ اقدام پارلیمانی جمہوریت کو مزید مضبوط اور عوام دوست بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے صوبے میں شفافیت اور جواب دہی کو فروغ ملے گا۔

واضح رہے کہ یہ نظام ستمبر 2024 میں کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کا تسلسل ہے، جب اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو پبلک پٹیشنز قبول کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

اس بارے میں قواعد وضع کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس میں اپوزیشن کے اراکین بھی شامل تھے اور فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے۔ ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد یہ نظام مکمل ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت نے خصوصی افراد کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کردیا

سیاسی ماہرین اسے جمہوریت کی مضبوطی کی طرف اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے شہریوں اور قانون سازوں کے درمیان فاصلہ کم ہو گا اور عوامی مسائل پر بروقت قانون سازی ممکن ہو سکے گی۔

تاہم بعض اپوزیشن اراکین نے 200 دستخطوں کی شرط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تعداد کم کرکے 50 رکھی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع پر اتفاق

ڈیزل اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمتوں میں 5،5 روپوں کی کمی کردی گئی

امریکا نے پولینڈ میں 4 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کردیا

فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

ڈاکٹر انعم فاطمہ پر ٹرولنگ، پی ٹی آئی کا خواتین کے ساتھ رویہ ایک بار پھر آشکار

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز