آزاد کشمیر میں عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں قیادت کے درمیان الزامات اور قانونی کارروائی نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے رہنما سردار صداقت حیات نے ایک نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں پارٹی کے چیئرمین پارلیمانی بورڈ اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے پارٹی ٹکٹ کے عوض ڈھائی کروڑ روپے طلب کیے۔
اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی، تاہم سردارعبدالقیوم نیازی نےان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی آزاد کشمیر اختلافات کا شکار، پارلیمانی بورڈ کے معاملے پر ایک گروپ کا بیرسٹر گوہر کے گھر کے باہر احتجاج
انہوں نے اپنے وکیل سردار مصروف ایڈووکیٹ کے ذریعے سردار صداقت حیات کو قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سردار صداقت حیات کے الزامات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ ان سے پارٹی قیادت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 14 دن کے اندر غیر مشروط طور پر عوامی معافی مانگیں، اپنے بیانات واپس لیں اور متعلقہ میڈیا پلیٹ فارمز پر وضاحت جاری کریں۔
مزید کہا گیا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ان کے خلاف دیوانی اور فوجداری کارروائی کے ساتھ ساتھ 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: آپ کھڑے نہیں ہوتے تو لوگ خود کھڑے ہو جائیں گے، علیمہ خان پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر پر برہم
سردار عبدالقیوم نیازی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی ساکھ اور سیاسی وقار کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا قانونی جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے ایک دھڑے نے پارلیمانی بورڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
اس ضمن میں گزشتہ دنوں بیرسٹر گوہر علی خان کے گھر کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا، جس سے پارٹی کے اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔














