نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کی مضبوطی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارتی دہشتگردی اور جارحانہ اقدامات کا پردہ چاک کر دیا
سلامتی کونسل کے اوپن مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے چین کی سلامتی کونسل کی صدارت میں اس اہم اجلاس کے انعقاد کو بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کی جانب سے اقوام متحدہ کے مرکزیت پر مبنی عالمی نظام کی حمایت قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے اصول مقدس حیثیت رکھتے ہیں اور یہی اصول پاکستان کی خارجہ پالیسی، عالمی روابط اور امن کے لیے کردار کی بنیاد ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل، خود ارادیت، خودمختاری اور بین الاقوامی تعاون کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی جانب سے جولائی 2025 میں پیش کی گئی قرارداد 2788 کو سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کیا جس کا مقصد تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا تھا۔
مزید پڑھیے: اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ملاقات، پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف
انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے، خطے میں امن کی بحالی اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے مسلسل کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ مل کر پاکستان نے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے ’5 نکاتی امن اقدام‘ بھی پیش کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک اور طویل تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی ترسیل، انسانی صورتحال اور بین الاقوامی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اسی لیے پاکستان سفارتی کوششوں کے ذریعے دیرپا حل کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
Remarks by H.E. Senator Mohammad Ishaq Dar, Deputy Prime Minister and Foreign Minister of Pakistan, at the UN Security Council Open Debate on “Maintenance of International Peace and Security: Upholding the Purposes and Principles of the UN Charter and Strengthening the… pic.twitter.com/Y41dGwTieg
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 26, 2026
اسحاق ڈار نے جموں و کشمیر تنازع کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: غزہ امدادی قافلے کی ناکہ بندی، اقوام متحدہ کی اسرائیل پر کڑی تنقید
فلسطین کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینی عوام کو ان کا حقِ خودارادیت نہیں ملتا۔ انہوں نے آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
اسحاق ڈار نے عالمی نظام میں دوہرے معیار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بین الاقوامی قانون کو منتخب انداز میں لاگو کیا جاتا ہے تو اقوامِ متحدہ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور چھوٹے ممالک کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جو کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف اور مؤثر بنائیں، نہ کہ چند ممالک کے اختیارات میں مزید اضافہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی امن صرف جنگوں کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مساوات، ترقی، انسانی وقار، ماحولیاتی انصاف اور نفرت انگیزی کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اس اہم سفارتی موقع کو ضائع نہ کریں، اقوام متحدہ کا امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم
خطاب کے اختتام پر وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک منقسم دنیا میں اقوام متحدہ کا منشور ہی وہ مشترکہ راستہ ہے جو دنیا کو امن، انصاف اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے، اور پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ اور قانون پر مبنی عالمی نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔














