اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے بعد پہلی بار بیروت پر فضائی حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کے جنوبی مضافاتی علاقے ‘ضاحیہ’ میں ایک عمارت تباہ ہوگئی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں حزب اللہ کی ایلیٹ ‘رضوان فورس’ کے ایک اہم کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں بھوک کا بحران اسرائیل نے جان بوجھ کر پیدا کیا، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے کے قریب کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں آگ کے بڑے شعلے اور تباہ شدہ عمارت دیکھی جاسکتی ہے۔ لبنانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت رضوان فورس کے ارکان ایک اجلاس میں موجود تھے، تاہم حزب اللہ نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
یہ حملہ 16 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بیروت پر پہلا اسرائیلی حملہ ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پاچکا ہے، لیکن اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ڈیموکریٹس کا اسرائیل کے جوہری ابہام سے پردہ اٹھانے کا مطالبہ
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی حملوں میں 120 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ سرحدی علاقوں میں ‘سیکیورٹی زون’ قائم کیا جاسکے۔














