بھارت میں میڈیکل کالجز میں داخلے کے سب سے بڑے امتحان ‘نیٹ یو جی’ کے پرچے آؤٹ ہونے کے بڑے اسکینڈل نے ملک بھر میں ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام کا ایک سال: کانگریس کی نریندر مودی کی پالیسیوں پر شدید تنقید، خارجہ پالیسی ناکام قرار
پیپر لیک ہونے کے ٹھوس شواہد سامنے آنے کے بعد امتحان کی منسوخی، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور احتجاجی مظاہروں نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی طور پر شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
انڈیا کی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے تحت منعقد ہونے والے اس امتحان میں لاکھوں طلبہ شریک ہوتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق 3 مئی کو ہونے والے امتحان سے قبل ہی پرچے کے کئی حصے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے لیک ہوچکے تھے۔
From Vyapam to NEET: India’s exam leak crises
Medical entrance tests to government job exams, paper leak scandals have repeatedly triggered protests, cancellations, arrests and court battles across India’s examination system
by @VMukherjee7 https://t.co/dFeLxmhBk3
— Forbes India (@ForbesIndia) May 13, 2026
بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے اب تک اس سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ حکام اسے ایک بین ریاستی سازش قرار دے رہے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق امتحان سے قبل گردش کرنے والے ‘گیس پیپرز’ اصل سوالنامے سے حیرت انگیز مطابقت رکھتے تھے۔
اس تنازع نے نہ صرف طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا بلکہ پیپر لیک ہونے اور امتحان کی منسوخی کے صدمے سے ملک کے مختلف حصوں میں کئی طلبا کی جانب سے خودکشی کی المناک خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
ان واقعات نے غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور طلبہ تنظیموں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کے پیشِ نظر حکام نے اب 21 جون کو دوبارہ امتحان لینے کا اعلان کیا ہے۔
Karnataka Deputy CM DK Shivakumar terms NEET paper leak a shame for the country, seeks answers from Centre over recurring exam question paper leak incidents. pic.twitter.com/xVPHNa59Y4
— News Arena India (@NewsArenaIndia) May 13, 2026
اپوزیشن جماعت کانگریس اور دیگر رہنماؤں نے اس اسکینڈل کا ذمہ دار بی جے پی کو ٹھہرایا ہے۔ راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اور اپوزیشن لیڈر ٹیکہ رام جولی نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کی نوجوان ونگ سے وابستہ افراد اس گروہ کا حصہ ہیں۔
اپوزیشن کا سوال ہے کہ پرچہ لیک ہونے کے ابتدائی اشارے ملنے کے باوجود پولیس کارروائی میں تاخیر کیوں کی گئی؟ ان کا کہنا ہے کہ حکومت طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو تحفظ دینے اور معاملے کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام سامنے آنے پر کانگریس کی تنقید، حکومت کی سخت تردید
دوسری جانب بی جے پی نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپوزیشن پر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا ہے۔ تاہم اس تنازع نے ایک بار پھر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں، جو گزشتہ چند برسوں سے امتحانات کے انتظام اور شفافیت کے حوالے سے مسلسل تنقید کا سامنا کررہی ہے۔
طلبا اور سیاسی حلقوں نے اب قومی سطح کے امتحانات میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور احتساب کا مطالبہ کردیا ہے۔














