بھارت میں میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کا پیپر لیک، بی جے پی حکومت شدید تنقید کی زد میں

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں میڈیکل کالجز میں داخلے کے سب سے بڑے امتحان ‘نیٹ یو جی’ کے پرچے آؤٹ ہونے کے بڑے اسکینڈل نے ملک بھر میں ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پہلگام کا ایک سال: کانگریس کی نریندر مودی کی پالیسیوں پر شدید تنقید، خارجہ پالیسی ناکام قرار

پیپر لیک ہونے کے ٹھوس شواہد سامنے آنے کے بعد امتحان کی منسوخی، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور احتجاجی مظاہروں نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی طور پر شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

انڈیا کی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے تحت منعقد ہونے والے اس امتحان میں لاکھوں طلبہ شریک ہوتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق 3 مئی کو ہونے والے امتحان سے قبل ہی پرچے کے کئی حصے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے لیک ہوچکے تھے۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے اب تک اس سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ حکام اسے ایک بین ریاستی سازش قرار دے رہے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق امتحان سے قبل گردش کرنے والے ‘گیس پیپرز’ اصل سوالنامے سے حیرت انگیز مطابقت رکھتے تھے۔

اس تنازع نے نہ صرف طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا بلکہ پیپر لیک ہونے اور امتحان کی منسوخی کے صدمے سے ملک کے مختلف حصوں میں کئی طلبا کی جانب سے خودکشی کی المناک خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

ان واقعات نے غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور طلبہ تنظیموں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کے پیشِ نظر حکام نے اب 21 جون کو دوبارہ امتحان لینے کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن جماعت کانگریس اور دیگر رہنماؤں نے اس اسکینڈل کا ذمہ دار بی جے پی کو ٹھہرایا ہے۔ راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت اور اپوزیشن لیڈر ٹیکہ رام جولی نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کی نوجوان ونگ سے وابستہ افراد اس گروہ کا حصہ ہیں۔

اپوزیشن کا سوال ہے کہ پرچہ لیک ہونے کے ابتدائی اشارے ملنے کے باوجود پولیس کارروائی میں تاخیر کیوں کی گئی؟ ان کا کہنا ہے کہ حکومت طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو تحفظ دینے اور معاملے کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام سامنے آنے پر کانگریس کی تنقید، حکومت کی سخت تردید

دوسری جانب بی جے پی نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپوزیشن پر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا ہے۔ تاہم اس تنازع نے ایک بار پھر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں، جو گزشتہ چند برسوں سے امتحانات کے انتظام اور شفافیت کے حوالے سے مسلسل تنقید کا سامنا کررہی ہے۔

طلبا اور سیاسی حلقوں نے اب قومی سطح کے امتحانات میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور احتساب کا مطالبہ کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت میں عیسائی برادری ایک بار پھر نشانے پر، چرچ پر حملہ اور توڑ پھوڑ

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں کا رخ، یورو بانڈ اور سکوک بانڈز جاری کرنے کا عمل شروع

گھریلو کام، اسپتال اور کارخانوں کے لیے اب روبوٹس کرائے پر بھی دستیاب، جانیے اضافی فوائد

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

سرگودھا میں لاہور کی طرز پر شاندار ترقیاتی کام، شہری وزیراعلیٰ مریم نواز کی خدمات کے معترف

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش