ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے درمیان جاری 134 ارب ڈالر کا ہائی پروفائل قانونی معرکہ اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ گیا ہے۔ نو ارکان پر مشتمل جیوری نے اس بلاک بسٹر مقدمے میں حتمی فیصلے کے لیے مشاورت کا آغاز کردیا ہے، جس کے نتائج پر پوری سلیکون ویلی کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا اوپن اے آئی پر مقدمہ: چیٹ جی پی ٹی کی لانچنگ بنا مشاورت ہوئی، سابق رکن بورڈ
ایلون مسک نے، جنہوں نے 2015 میں اوپن اے آئی کی بنیاد ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر رکھنے میں مدد کی تھی، سیم آلٹ مین اور کمپنی کے صدر گریگ بروک مین پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ مسک کا موقف ہے کہ ان دونوں شخصیات نے چیریٹیبل ٹرسٹ کی خلاف ورزی کی اور ادارے کو مائیکروسافٹ کے زیرِ اثر ایک منافع بخش کارپوریٹ ادارے میں تبدیل کر کے ناجائز فائدہ اٹھایا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ارب پتی ایلون مسک نے جیوری کے سامنے اپنا کیس سادہ الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ مخالف فریق اس کیس کو پیچیدہ بنانے کی کوشش کرے گا، لیکن اصل بات صرف اتنی ہے کہ کسی خیراتی ادارے کو چرانا درست عمل نہیں ہے۔ مسک کا مطالبہ ہے کہ اوپن اے آئی کے کارپوریٹ ڈھانچے کو ختم کر کے 134 ارب ڈالر کی رقم واپس ادارے کے غیر منافع بخش ونگ کو دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا بڑا قدم، ایکس میں ڈیجیٹل بینکنگ فیچرز متعارف کرانے کی تیاری
دوسری جانب اوپن اے آئی کی دفاعی ٹیم نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک 2018 میں خود ادارے سے الگ ہوئے تھے اور اب وہ صرف حسد کی بنیاد پر یہ کارروائی کر رہے ہیں۔ کمپنی کے وکلاء نے اختتامی دلائل میں مسک کی عدالت سے غیر حاضری پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ جیوری کا فیصلہ اب کسی بھی وقت متوقع ہے۔














