خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 8 خارجی دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق یہ آپریشن تھانہ میریان کی حدود میں کیا گیا، جہاں خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔
خیبر پختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے بنوں پولیس کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورس نے انتہائی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
حکام کے مطابق بنوں میں حالیہ پولیس چوکی حملے، جس میں 15 اہلکار شہید ہوئے تھے، کے بعد پولیس مزید متحرک اور پرعزم ہوچکی ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز علاقے میں دہشتگردوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف کارروائیاں تیز کررہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بزدلانہ حملوں کے ذریعے خوارج پولیس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ ایسے اقدامات فورس کے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں، اور دہشتگرد عناصر کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی کسی بھی شکل کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور کسی گروہ کو امن خراب کرنے یا معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بیان کے مطابق بنوں میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں 8 خوارج کی ہلاکت دہشتگردی کے خلاف وسیع تر کارروائیوں کا حصہ ہے، جو بھارتی سرپرستی اور افغان سرزمین سے سرگرم فتنہ الخوارج کے خلاف جاری ہیں۔
مزید کہا گیا کہ فتنۃ الخوارج کے سہولت کاروں اور معاونین کو دہشتگرد گروہوں کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت پر عالمی سطح پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔














