خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام ناران کی ضلعی انتظامیہ نے بابوسر ٹاپ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مسلسل برفباری کے باعث سیاحوں اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے سفری ایڈوائزری جاری کردی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کردہ اس خصوصی ہدایت نامے میں مسافروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پہاڑی درے کی جانب سفر کی منصوبہ بندی سے قبل موسم کی صورتحال لازمی دیکھ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیکٹ چیک: کیا پاکستان کے شمالی علاقوں میں گرمیوں کے موسم میں واقعی برفباری ہورہی ہے؟
حکام کے مطابق مسلسل برفباری کی وجہ سے سڑکوں پر پھسلن اور شدید برف جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کئی مقامات پر راستوں کو صرف یکطرفہ ٹریفک کے لیے محدود کردیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ شام 6 بجے کے بعد برفباری کی شدت میں اضافے اور حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کی وجہ سے اس روٹ پر سفر کرنا شدید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
پریس ریلیز میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ سڑکوں پر جمی برف، بریک فیل ہونے کے خطرات، گلیشیئرز کی نقل و حرکت اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خدشات جانی و مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز گلگت بلتستان کو کس طرح نقصان پہنچا رہے ہیں؟
ضلعی حکام نے عام عوام اور ٹورسٹ آپریٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ ناگزیر حالات کے علاوہ ان علاقوں کا غیر ضروری سفر کرنے سے مکمل گریز کریں اور مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
واضح رہے کہ 6 ماہ سے زائد عرصے کی طویل بندش کے بعد حال ہی میں مانسہرہ-ناران-جلکھڈ روڈ کو گلیشیئرز اور برف ہٹا کر ٹریفک کے لیے بحال کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے سیاحوں کی حفاظت کے لیے وادی کاغان کے بالائی حصوں میں باقاعدہ سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن بھی شروع کر رکھا ہے۔
اس سے قبل پاکستان محکمہ موسمیات کی جانب سے بھی شمالی علاقوں کے لیے گلیشیائی جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری کیا گیا تھا جس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارشوں کا سلسلہ تھمنے کے بعد وادی کاغان میں پھنسے سیاحوں کا انخلا جاری
مقامی آبادی اور مسافروں کو ندی نالوں کے پانی کی رنگت میں اچانک تبدیلی یا پتھروں کے رگڑنے کی آوازوں پر گہری نظر رکھنے اور اپنے مال مویشی سمیت دیگر ضروری سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔














