.
.
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ماؤنٹ ایورسٹ پر 6 روز سے لاپتا نیپالی کوہ پیمائی گائیڈ کو زندہ حالت میں تلاش کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق مشہور کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کے نام پر ’ہلیری‘ کہلائے جانیوالے 50 سالہ تجربہ کار دوا شیرپا 30 مئی کو دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کے بالائی حصے میں شدید موسمی حالات کے دوران لاپتا ہوگئے تھے۔
دوا شیرپا کی گمشدگی کے بعد ان کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں سرگرم ہوئیں، تاہم کئی دن تک ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا، اہل خانہ اور ساتھی کوہ پیماؤں نے ان کی موت کا خدشہ ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے 2 بھارتی کوہ پیما جیت کر جان کی بازی ہار گئے
ان کی اہلیہ دامو شیرپا کے مطابق خاندان نے امید تقریباً چھوڑ دی تھی اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے مذہبی رسومات اور دعاؤں کا آغاز بھی کر دیا گیا تھا۔
تاہم جمعرات کی صبح صورتحال اس وقت یکسر بدل گئی جب ساگارماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی کی ایک ٹیم نے انہیں ایورسٹ بیس کیمپ کے قریب زندہ حالت میں دیکھا۔
ٹیم کے ارکان کے مطابق دوا شیرپا شدید کمزوری کے باعث رینگتے ہوئے نیچے اتر رہے تھے۔
Dawa Sherpa shortly after being found alive this morning on Everest, 04.06.2026 NPT. Video ©: Mingmar Sherpa. pic.twitter.com/MHSlz0kEEb
— Everest Today (@EverestToday) June 4, 2026
بعد ازاں انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں سردی کے باعث جسم کے بعض حصوں میں فراسٹ بائٹ کا سامنا ہے، تاہم مجموعی طور پر ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔
29 مئی کو دوا شیرپا کے ساتھ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنیوالے برطانوی سابق رائل میرین اور کوہ پیما کرس تھرال نے بتایا کہ واپسی کے دوران تقریباً 7,950 میٹر کی بلندی پر دوا شیرپا آرام کے لیے رک گئے تھے۔
مزید پڑھیں: ماؤنٹ ایورسٹ پر کوڑے کے انبار، نیپال نے صفائی کے لیے 5 سالہ منصوبہ بنا لیا
تھرال کے مطابق اس وقت حالات انتہائی دشوار تھے اور انہیں ایک ایسے پولش کوہ پیما کی مدد بھی کرنا پڑی جو آکسیجن ختم ہونے اور فراسٹ بائٹ کا شکار ہونے کے باعث شدید مشکلات میں تھا۔
تھرال نے کہا کہ اس سیزن میں موسمی حالات غیر معمولی طور پر سخت تھے، جس کے باعث 5 دن میں مکمل ہونے والا سفر 11 دن تک پھیل گیا۔
مزید پڑھیں: جب ماؤنٹ ایورسٹ کو پہلی بار سر کرنے والے کوہ پیما طیارہ حادثے میں بچ نکلے
دوا شیرپا کے لاپتا ہونے کے بعد امدادی ٹیمیں انہیں تلاش کرتی رہیں، لیکن وہ 6 روز تک کسی کو نظر نہ آئے اور بالآخر اپنی مدد آپ کے تحت نیچے اترتے ہوئے مل گئے۔
رواں سیزن میں ایک ہزار سے زائد کوہ پیما ایورسٹ کی چوٹی سر کر چکے ہیں، جبکہ کم از کم 5 افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں, حکام کے مطابق یہ ایورسٹ کی تاریخ کا مصروف ترین سیزن ثابت ہوا ہے۔













