پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں پارٹی کو ملنے والی غیر معمولی عوامی پذیرائی نے سیاسی مخالفین کو پریشان کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی وزراء کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور سرکاری وسائل کا استعمال انتخابی ماحول پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے، جس کا الیکشن کمیشن کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بات سینیٹر پلوشہ خان، سینیٹر شہادت اعوان اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے پیپلز سیکریٹریٹ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین انتخابی مہم کے سلسلے میں وہاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو شناخت اور سیاسی حقوق دلانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی کردار رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگی بجلی سے تنگ عوام اپنی مدد آپ کے تحت سولر پینلز نصب کر رہے ہیں، جبکہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ان پر معاشی بوجھ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: 7 جون کا الیکشن جیت کر گلگت بلتستان میں جیالا وزیراعلیٰ لائیں گے، بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے قبل اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کے اعلانات پری پول رگنگ کے مترادف ہیں۔
ان کے مطابق انتخابی فہرستوں میں مبینہ ردوبدل، افسران کے تبادلے اور سرکاری مشینری کے استعمال جیسے معاملات بھی تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ ماضی میں اقتدار میں رہنے والی جماعتوں کو گلگت بلتستان کی ترقی کے حوالے سے اپنی کارکردگی کا حساب دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو شناخت دی، جبکہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایف سی آر جیسے فرسودہ نظام کا خاتمہ کیا۔
ان کے بقول خواتین کے حقوق، نوجوانوں کی نمائندگی اور جمہوری اداروں کے قیام میں بھی پیپلز پارٹی کا کردار نمایاں رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم آرڈیننس کے ذریعے نہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے سے ہونی چاہئیں، جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔
رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ ہونے پر وفاقی بجٹ میں تاخیر، اتحادی جماعت حکومت سے کیا چاہتی ہے؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ محترمہ آصفہ بھٹو زرداری کو گلگت بلتستان میں بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس سے سیاسی مخالفین بے چینی کا شکار ہیں۔
انہوں نے گلگت بلتستان میں پنجاب پولیس کی موجودگی اور وفاقی و صوبائی وزرا کی انتخابی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے شفاف اور منصفانہ انتخابات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔














