دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر 6 دن سے لاپتا اور مردہ تصور کیے جانے والے ایک نیپالی کلائمبنگ گائیڈ معجزانہ طور پر زندہ مل گیا ہے، جس نے انتہائی کٹھن حالات میں اکیلے رینگتے ہوئے بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔
حکام کے مطابق ہلیری کے نام سے مشہور 50 سالہ کوہ پیما داوا شیرپا 30 مئی کی صبح چوٹی کے بالائی حصوں میں لاپتا ہو گئے تھے۔ ان کے زندہ بچنے کی امیدیں اس حد تک دم توڑ چکی تھیں کہ ان کی اہلیہ نے کاٹھمنڈو کے اسپتال میں میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر کی روح کے ایصال ثواب کے لیے آخری رسومات کی دعائیں اور پوجا بھی شروع کردی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: غیرملکی خاتون کوہ پیما نانگا پربت سر کرنے کی مہم میں ہلاک، لاش کی تلاش جاری
’تاہم جمعرات کی صبح ساگرماتھا پولیوشن کنٹرول کمیٹی کی ایک ٹیم نے انہیں بیس کیمپ کے قریب رینگتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھتے ہوئے پایا جس کے بعد انہیں فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے دارالحکومت کاٹھمنڈو منتقل کیا گیا۔‘
سرکاری حکام اور ریسکیو ٹیموں کے مطابق داوا شیرپا اس وقت ہوش میں ہیں اور کاٹھمنڈو کے ہامس اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرعلاج ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ شدید سردی، فراسٹ بائٹ اور پانی کی کمی کا شکار ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپالی گائیڈ 32 بار ایورسٹ سر کرنے والے دنیا کے پہلے کوہ پیما بن گئے
داوا شیرپا کی بیٹی مینڈو لھامو نے بتایا کہ جب انہیں فون پر والد کے ملنے کی خبر ملی تو پہلے تو انہیں یقین ہی نہیں آیا، لیکن جب ریسکیو ٹیم نے تصدیق کے لیے تصاویر بھیجیں تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
داوا شیرپا کے ساتھ سفر کرنے والے برطانوی رائل میرین کے سابق اہلکار اور کوہ پیما کرس تھرال نے بتایا کہ انہوں نے 29 مئی کی شام داوا شیرپا کے ساتھ کامیابی سے چوٹی سر کی تھی، لیکن اگلے دن جب وہ موت کی وادی کہلانے والے زون سے نیچے اتر رہے تھے تو داوا شیرپا تھکن کی وجہ سے اپنا بیگ رکھ کر بیٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ’قسمت کی خوبی دیکھیے‘: ایورسٹ چوٹی سر کرلینے والے 2 بھارتی کوہ پیما زندہ واپس نہیں آسکے
کرس تھرال کے مطابق انہوں نے جب داوا سے خیریت دریافت کی تو انہوں نے مسکرا کر آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ اسی دوران راستے میں ایک پولش کوہ پیما آکسیجن ختم ہونے کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ملا جس کی مدد کرنے کی وجہ سے وہ داوا شیرپا سے الگ ہو گئے۔ موسم کی انتہائی سنگینی کے باعث جو سفر 2 گھنٹے کا تھا وہ 11 گھنٹے میں طے ہوا اور اس دوران داوا شیرپا کا سراغ کھو گیا۔
نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سیزن کے اختتام پر چوٹی پر کوہ پیماؤں کی تعداد بہت کم تھی جس کی وجہ سے تلاش میں مشکلات آئیں، تاہم داوا شیرپا نے اپنی ہمت اور پہاڑوں کے تجربے کے باعث موت کو شکست دے دی اور خود ہی نیچے پہنچنے میں کامیاب رہے، جبکہ رواں سیزن میں اب تک کم از کم 5 کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش میں ہلاک ہوچکے ہیں۔














