ملک میں مالی سال 26-2025 میں مینوفیکچرنگ شعبے کی نمو 6.6 فیصد تک پہنچ گئی

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اکنامک سروے 26-2025 کے مطابق مالی سال 2026 میں ملک کے مینوفیکچرنگ شعبے نے نمایاں بہتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6.6 فیصد نمو حاصل کی جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح صرف 2 فیصد رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی بحالی کے باوجود پاکستان میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ گئی، اقتصادی سروے

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے جاری کردہ اکنامک سروے کے مطابق اس بہتری کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی بحالی رہی جنہوں نے 6.1 فیصد نمو ریکارڈ کی۔ اسی طرح چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں 8.5 فیصد جبکہ ذبح خانے کے شعبے میں 6.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سروے کے مطابق مقداری پیداواری اشاریے (کیو آئی ایم) کی بنیاد پر جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں اس شعبے میں 1.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

سالانہ بنیادوں پر مارچ 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 11.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مارچ 2025 میں یہی شعبہ 2.4 فیصد سکڑاؤ کا شکار تھا۔

مزید پڑھیے: قومی اقتصادی سروے : چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، شرح نمو 3.7 فیصد رہی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اکنامک سروے کے مطابق صنعتی شعبے کی بحالی میں سازگار معاشی حالات، شرح مبادلہ میں استحکام، مہنگائی پر قابو، خام مال اور توانائی کی بہتر دستیابی اور نسبتاً نرم مالیاتی پالیسی نے اہم کردار ادا کیا۔

22 میں سے 16 صنعتی شعبوں میں مثبت نمو

رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 کے پہلے 9 ماہ کے دوران 22 صنعتی گروپس میں سے 16 نے مثبت کارکردگی دکھائی۔ نمایاں ترقی کرنے والے شعبوں میں خوراک، ٹیکسٹائل، ملبوسات، کوک اور پیٹرولیم مصنوعات، غیر دھاتی معدنی مصنوعات، آٹوموبائل، مشروبات اور برقی آلات شامل ہیں۔

کان کنی کے شعبے میں بھی بہتری

کان کنی اور معدنیات کے شعبے نے بھی 4 سال کی مسلسل منفی کارکردگی کے بعد  سال 2026 میں 0.4 فیصد نمو حاصل کی۔

مزید پڑھیں: اقتصادی سروے کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس مثبت زون میں بند

جولائی تا مارچ کے دوران میگنیشائٹ کی پیداوار میں 164.8 فیصد، سنگِ نمک میں 109.9 فیصد، جپسم میں 67 فیصد، لوہے کی دھات میں 41.5 فیصد، اوکر میں 31.7 فیصد، چونا پتھر میں 25.1 فیصد اور کوئلے کی پیداوار میں 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

بعض معدنیات کی پیداوار میں کمی

دوسری جانب بعض معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ گندھک کی پیداوار 68 فیصد کم ہوئی، جبکہ کرومائٹ میں 51.3 فیصد، صابن پتھر میں 24.7 فیصد، بیریٹ میں 20.7 فیصد، قدرتی گیس میں 3.7 فیصد اور خام تیل کی پیداوار میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

صنعتی بحالی کے مثبت آثار

معاشی ماہرین کے مطابق مینوفیکچرنگ اور بڑی صنعتوں میں نمو کا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ملک کا صنعتی شعبہ گزشتہ برسوں کے دباؤ سے نکل کر بحالی کی جانب گامزن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معاشی استحکام برقرار رہا اور توانائی و خام مال کی فراہمی میں بہتری جاری رہی تو آنے والے مہینوں میں صنعتی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp