بالی ووڈ کے 60 سالہ اداکار سلمان خان نے اپنی آنے والی متنازع فلم ‘کالا ہرن: بیٹل فار لیگیسی’ کے فلم سازوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اداکار کی قانونی ٹیم نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں اس فلم کی ریلیز پر فوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان سے قربت، لارنس بشنوئی گینگ کی گلوکار گرو رندھاوا کے جمخانے پر فائرنگ
سلمان خان کے وکلاء کا موقف ہے کہ بھارت ایس شریناد کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم اداکار کی شخصیت اور پبلسٹی کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ فلم 1998 کے مشہور بلیک بک (کالا ہرن) شکار کیس سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے، جس میں سلمان خان نامزد تھے۔

اداکار کے وکلا کا کہنا ہے کہ فلم کے پوسٹرز، ٹیزر اور دیگر تشہیری مواد میں واضح طور پر سلمان خان کی شناخت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ فلم سازوں پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے فلم میں سلمان خان کے ہم شکل (لوک الائک) کا استعمال کیا ہے جسے اداکار کا مخصوص اور دستخطی بریسلیٹ بھی پہنایا گیا ہے۔
قانونی ٹیم کے مطابق فلم ساز اپنے تجارتی فائدے کے لیے سلمان خان کا نام اور ان کی شناخت استعمال کر رہے ہیں، جو کہ غیر قانونی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کا 12 سال پرانا ٹویٹ دوبارہ وائرل، پریتی زنٹا کا حیران کن ردعمل
یہ فلم گزشتہ ماہ اس وقت سرخیوں میں آئی تھی جب اس کا پہلا آفیشل پوسٹر ریلیز کیا گیا تھا، جس میں سلمان خان کے حقیقی زندگی کے شکار کے کیس اور لارنس بشنوئی کے ساتھ جاری دشمنی کے عناصر کو واضح طور پر دکھایا گیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ فلم کے تشہیری مواد پر پہلے ہی سے شدید تنازع کھڑا ہو چکا تھا۔
واضح رہے کہ ‘کالا ہرن، دی بیٹل فار لیگیسی’ کی ریلیز کی کوئی حتمی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔
دوسری جانب سلمان خان کے مداحوں کو ان کی اگلی فلم ‘ماتربھومی’ کا انتظار ہے، جس کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان وادیٔ گالوان میں ہونے والی جھڑپ کے حقیقی واقعات پر مبنی ہے۔














