پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں نئی وسعت، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہونے کی توقع

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو خطے کے مضبوط ترین اور دیرینہ تعلقات میں شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں نہ صرف سفارتی اور تزویراتی تعاون کو فروغ دیا بلکہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیا۔ پاکستان کو درپیش متعدد چیلنجز کے دوران سعودی عرب کی جانب سے تعاون اور حمایت کے مختلف مظاہر دیکھنے میں آئے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جب بھی پاکستان کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا ہوا، سعودی عرب کا نام ان ممالک میں شامل رہا جنہوں نے مختلف مواقع پر پاکستان کی حمایت کی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو محض سفارتی روابط نہیں بلکہ ایک تاریخی شراکت داری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب سے پاکستانیوں کے لیے اس سال قربانی کے کتنے جانوروں کا گوشت آئے گا؟

ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ پاکستان کے لیے سعودی عرب کی اہمیت کتنی ہے؟ ماضی میں کن مواقع پر سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ’خصوصی تعلقات‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

سابق سفیر مسعود خالد کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور مختلف آزمائشی ادوار میں سعودی عرب نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ ان کے بقول 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تو سعودی عرب ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کی حمایت جاری رکھی۔

مسعود خالد کے مطابق مختلف ادوار میں جب پاکستان کو مالی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے مختلف انداز میں تعاون فراہم کیا۔ تیل کی مؤخر ادائیگی کی سہولت، مالی معاونت اور دیگر اقدامات کے ذریعے سعودی عرب نے پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دی۔

ان کے مطابق حالیہ برسوں میں بھی جب پاکستان معاشی دباؤ اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے مشکل مرحلے سے گزر رہا تھا، سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دیا اور اس کی معاونت کی۔

مزید پڑھیں: ’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

سابق سفیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض وقتی مفادات تک محدود نہیں بلکہ ان کی بنیاد تاریخی، مذہبی، سیاسی اور تزویراتی روابط پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور مشکل حالات میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کا کردار ادا کیا ہے۔

مسعود خالد کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب مستقبل میں بھی مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ ان کے بقول دونوں ملکوں کے تعلقات خصوصی نوعیت کے حامل ہیں اور آنے والے برسوں میں ان میں مزید وسعت متوقع ہے۔

اس حوالے سے سعودی عرب میں پاکستان کے سابق سفیر ہشام بن صدیق کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اب محض روایتی دوستی یا سفارتی روابط تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ ایک گہری، منظم اور عملی دفاعی و سیکیورٹی شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ان کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، خصوصاً بڑی طاقتوں کی کشمکش اور ایران سمیت مختلف علاقائی عوامل، اس تعاون کی اہمیت کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

ہشام بن صدیق کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی بنیاد دہائیوں پر محیط اعتماد اور تاریخی روابط پر قائم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں سعودی عرب کی سیکیورٹی اور خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں سعودی عرب کے لیے ایک مؤثر ’ڈیٹرنس‘ یعنی روک تھام کی قوت فراہم کرتی ہیں، جو کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ان کے مطابق یہ تعاون اب صرف روایتی دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید سیکیورٹی چیلنجز کی سمت بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس میں ڈرون ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ، سائبر سیکیورٹی اور داخلی سلامتی کے نظام کی بہتری جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں غیر روایتی خطرات نے اس امر کو ناگزیر بنا دیا ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ اور جدید حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کی وزیر خارجہ سے ملاقات، پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور

سابق سفیر کے مطابق دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون میں مزید وسعت کے واضح امکانات موجود ہیں، جہاں پاکستان کی دفاعی صنعت اور سعودی عرب کے مالی و تزویراتی وسائل ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں خود انحصاری اور مجموعی استحکام کو بھی فروغ ملے گا۔

ہشام بن صدیق کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایک نئے اسٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک محض اتحادی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے فعال سیکیورٹی پارٹنرز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ یہ تعاون آنے والے برسوں میں مزید گہرا اور وسیع ہوتا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp