منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار مبینہ ہائی پروفائل منشیات فروش انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد غیر معمولی ڈیٹا برآمد کر لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق موبائل فون کی فورینزک رپورٹ تفتیشی افسر کے حوالے کر دی گئی ہے، جس میں موجود ڈیجیٹل شواہد کو تحقیقات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائل فون سے 75 ہزار سے زائد تصاویر اور دیگر تصویری مواد برآمد ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انمول پنکی کا مبینہ وائس نوٹ ماننے سے انکار، پولیس وائس ٹیسٹ لینے کے لیے عدالت پہنچ گئی
اس کے علاوہ بینک سلپس کے اسکرین شاٹس بھی ملے ہیں جن سے صارفین کی جانب سے کی گئی ادائیگیوں اور آن لائن مالی لین دین کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
جو مبینہ طور پر منشیات کے کاروبار سے منسلک ایک منظم مالیاتی نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے۔
تحقیقات کے دوران فون سے 13 ہزار رابطہ نمبرز اور 42 ہزار کال لاگز بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
کراچی کے ہائی پروفائل انمول عرف پنکی کیس میں پیش رفت،انمول پنکی کے موبائل فون کی تفصیلی رپورٹ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے تفتیشی افسر کو ارسال کر دی ہے۔ملزمہ کے فون سے 100 جی بی سے زائد کا ڈیٹا ریکور ، 75 ہزار تصاویر اور ٹرا بینک سلپس کے سینکڑوں اسکرین شاٹس شامل۔ملزمہ… pic.twitter.com/1eGsRlGN9x
— Ali Tanoli (@alitanoli889) June 16, 2026
ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں 2 الگ واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی، جسے تفتیش کار مختلف نیٹ ورکس کے ساتھ خفیہ رابطوں کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان قرار دے رہے ہیں۔
رواں ماہ گرفتاری کے بعد سے ملزمہ کو منشیات کے نیٹ ورک چلانے سے لے کر قتل جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ پنکی کو 12 مئی کو کراچی کے علاقے گارڈن میں واقع اس کے فلیٹ پر پولیس اور ایک سول انٹیلی جنس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: دمہ، گردوں اور دیگر عوارض کی شکایت پر جیل میں انمول پنکی کا طبی معائنہ، ڈاکٹروں نے کیا بتایا؟
حکام کے مطابق گرفتاری کے وقت ملزمہ کے قبضے سے اسلحہ، کوکین اور دیگر منشیات برآمد ہوئی تھیں جن کی مالیت تقریباً 15 لاکھ روپے بتائی گئی تھی۔
حکام کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں منشیات کی سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی۔
تاہم ملزمہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسے کراچی منتقل کیے جانے سے 15 روز قبل لاہور میں حراست میں لیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ کراچی کی ایک مقامی عدالت نے مختلف مقدمات میں پیشی کے بعد پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
گرفتاری کے بعد آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران کئی اہم اور بااثر نام سامنے آ سکتے ہیں۔
ان کے مطابق پنکی کے خلاف متعدد مقدمات پہلے ہی درج ہیں، جن میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے مقدمات بھی شامل ہیں، جبکہ تحقیقات کے دوران منشیات کے کاروبار سے وابستہ مزید افراد کی شناخت ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: ’مجھے لاہور سے گرفتار کرکے یہاں لائے ہیں‘، انمول پنکی کی عدالت میں دہائی
آئی جی سندھ نے بتایا کہ کیس سے متعلق بینکنگ ٹرانزیکشنز کی جانچ پڑتال کے لیے ایف آئی اے کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔
جبکہ آن لائن منشیات فروشی کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔













