خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ 19 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ محکمہ خزانہ نے بجٹ اجلاس بلانے کی سمری بھی تیار کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے نئی سمری تیار کی ہے جو منظوری کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس ارسال کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خیبرپختونخوا بجٹ کی منظوری نہ دی تو کیا ہوگا؟
ترجمان پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا شوکت یوسف زئی نے بھی 19 جون کو بجٹ پیش کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی قیادت کی ہدایت پر صوبائی حکومت بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جسے اس سے قبل عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا گیا تھا۔
شوکت یوسف زئی نے بتایا کہ بجٹ کے حوالے سے قانونی ماہرین سے مشاورت کی گئی اور ماہرین نے صوبائی حکومت کو سہ ماہی بجٹ کے بجائے سالانہ بجٹ پیش کرنے کی سفارش کی۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی قیادت کی جانب سے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب محکمہ خزانہ کے حکام نے بھی 19 جون کو بجٹ پیش کیے جانے کی تصدیق کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ خزانہ نے پورے سال کا بجٹ تیار کیا ہے اور اس سے قبل ایک سمری بھی وزیراعلیٰ ہاؤس ارسال کی تھی، جس میں 15 جون کو بجٹ اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ بجٹ تیار ہے اور اگر اجلاس کی منظوری دی گئی تو کابینہ سے منظوری کے بعد اسے اسمبلی میں پیش کیا جائےگا۔
قانونی ماہرین کی سہ ماہی بجٹ کی مخالفت
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو بجٹ عمران خان سے ملاقات سے مشروط کرنے کا مشورہ دیا تھا، جس کے بعد پارٹی کے ناراض اراکین اور کارکنان کی جانب سے سہیل آفریدی پر بجٹ کے ذریعے وفاق پر دباؤ ڈالنے کے مطالبات سامنے آ رہے تھے۔
چند روز قبل اسلام آباد میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں سہ ماہی بجٹ کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا، جس پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں قانونی ماہرین بھی شامل تھے۔
مزید پڑھیں: بجٹ 3 مہینے یا پورے سال کے لیے؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو شدید مشکلات
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سہ ماہی بجٹ کے بجائے سالانہ بجٹ پیش کرنے کی سفارش کردی اور مؤقف اختیار کیاکہ قانون اور آئین میں سہ ماہی بجٹ کی گنجائش موجود نہیں۔ ایسا کرنے سے صوبائی حکومت کو قانونی اور انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے سالانہ بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔














