چین کا امریکا کو کرارا جواب، درجنوں کمپنیوں پر وسیع پابندیاں عائد کردیں

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے امریکا کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں علی بابا اور بائیڈو سمیت 24 چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیے جانے کے جواب میں شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی کمپنیوں پر وسیع پیمانے پر برآمدی پابندیاں عائد کردی ہیں جس سے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان تجارتی جنگ شدید ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی پابندیوں پر چین کا سخت ردعمل، اپنی 5 ریفائنریز کا دفاع

 چین کی وزارتِ تجارت نے امریکہ کی ‘بدنیتی پر مبنی کارروائی’ کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے 10 امریکی دفاعی کمپنیوں کو کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا ہے جس کے بعد اب چین میں بننے والی ایسی مصنوعات جن کا فوجی استعمال ممکن ہے ان کمپنیوں کو برآمد نہیں کی جا سکیں گی۔

اس جوابی کارروائی میں بیجنگ نے اسٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم معدنیات کے شعبے کو بھی نشانہ بنایا ہے اور امریکا میں نایاب معدنیات تیار کرنے والے 2 بڑے اداروں ‘ایم پی مٹیریلز’ اور ‘یو ایس اے ریر ارتھ’ پر برآمدی پابندیاں لگا دی ہیں تاکہ جدید دفاع، الیکٹرانکس اور قابلِ تجدید توانائی کے لیے ضروری سپلائی چین پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا جاسکے۔

چینی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات ملک کے قومی مفاد اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں اور دنیا کے کسی بھی خطے یا ملک کے کسی بھی ادارے یا فرد کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ چین سے حاصل کردہ دوہرے استعمال کا خام مال یا اشیا ان بلیک لسٹڈ امریکی کمپنیوں کو منتقل کرے اس لیے یہ تمام برآمدی سرگرمیاں فوری طور پر روک دی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹرمپ اور شی جن پنگ کی جنوبی کوریا میں ملاقات، تجارتی جنگ میں سیز فائر کی امید

اس کے ساتھ ہی چین کی وزارتِ خزانہ نے مقامی مینوفیکچرنگ کی برتری برقرار رکھنے کے لیے ‘لاک ہیڈ مارٹن’، بوئنگ کے دفاعی شعبے اور ‘آر ٹی ایکس’ سمیت 46 امریکی کمپنیوں کو سرکاری خریداری کے عمل سے بھی باہر نکال دیا ہے تاہم چینی مارکیٹ کو نقصان سے بچانے کے لیے ان امریکی کمپنیوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے جو چین کے اندر ہی سرمایہ کاری کر کے کام کررہی ہیں۔

دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی یہ کوششیں زیادہ تر علامتی ہیں کیونکہ امریکی قوانین کی وجہ سے ان دفاعی کمپنیوں کا چین میں کاروبار پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے اس سے امریکی مفادات پر کوئی بڑا یا فوری اثر نہیں پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp