ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: کیا بھارت سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکے گا؟

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں مقابلہ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بھارتی ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں اب اپنے آخری 2 میچز پر منحصر ہیں۔ بھارت کو اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے خلاف اہم مقابلے کھیلنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ: بھارت کے خلاف میچ میں پاکستان ٹیم پر جرمانہ عائد

3 میچوں کے بعد گروپ اے کی صورتحال نہایت سنسنی خیز ہو چکی ہے جہاں ہر رن، ہر وکٹ اور ہر گیند سیمی فائنل کی دوڑ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

بھارت اس وقت 3 میچوں میں 4 پوائنٹس کے ساتھ گروپ اے میں دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے برابر جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے بھی 4، 4 پوائنٹس ہیں تاہم بہتر نیٹ رن ریٹ (+2.511) کی بدولت بھارت کو برتری حاصل ہے۔

ہرمن پریت کور کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے پاکستان اور نیدرلینڈز کو شکست دے کر ایونٹ کا شاندار آغاز کیا تھا تاہم جنوبی افریقا کے خلاف شکست نے سیمی فائنل کی دوڑ کو مزید دلچسپ بنا دیا۔

بھارت سیمی فائنل میں کیسے پہنچ سکتا ہے، پہلی صورت

اگر دونوں میچ جیت لے یعنی بھارت بنگلہ دیش (25 جون) اور آسٹریلیا (28 جون) دونوں کو شکست دے دیتا ہے تو اس کے 8 پوائنٹس ہو جائیں گے اور سیمی فائنل میں جگہ تقریباً یقینی ہو جائے گی۔ بہتر نیٹ رن ریٹ بھی اسے اضافی برتری فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیے: ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2024: پاکستانی بولرز کی شاندار پرفارمنس، سری لنکا کو 31 رنز سے شکست

بھارت کے لیے حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ اسی سال آسٹریلیا میں کھیلی گئی 3 ٹی20 میچوں کی سیریز میں اس نے آسٹریلیا کو 2-1 سے شکست دی تھی۔

تاہم موجودہ ورلڈ کپ میں آسٹریلوی ٹیم شاندار فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔ آسٹریلیا نے اپنے تینوں میچ جیتے ہیں اور اس کا نیٹ رن ریٹ +4.391 ہے۔

دوسری صورت: ایک میچ جیتے، ایک ہارے

اگر بھارت بنگلہ دیش کو ہرا دے لیکن آسٹریلیا سے شکست کھا جائے تو اس کے 6 پوائنٹس ہوں گے۔

اس صورت میں بھارت کی امیدیں جنوبی افریقا کے نتائج سے وابستہ ہوں گی۔ اگر جنوبی افریقہ نیدرلینڈز یا بنگلہ دیش میں سے کسی ایک سے بھی ہار جاتا ہے تو بھارت کو فائدہ مل سکتا ہے۔

گر دونوں ٹیمیں برابر پوائنٹس پر ختم کرتی ہیں تو فیصلہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا جہاں اس وقت بھارت کو واضح برتری حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان کی بیٹنگ لائن فیل، بھارت نے 64 رنز سے شکست دیدی

البتہ جنوبی افریقہ کی بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز کے خلاف مضبوط کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس امکان کو زیادہ مضبوط نہیں سمجھا جا رہا۔

تیسری صورت: دونوں میچ ہار جائے

اگر بھارت اپنے دونوں باقی میچ ہار جاتا ہے تو اس کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں تقریباً ختم ہو جائیں گی جبکہ جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش اس سے آگے نکل سکتے ہیں۔

گروپ اے کی موجودہ صورتحال

آسٹریلیا: 3 میچ، 6 پوائنٹس، نیٹ رن ریٹ +4.391

6 مرتبہ کی عالمی چیمپئن آسٹریلیا اب تک ناقابل شکست ہے اور مزید ایک کامیابی اسے سیمی فائنل میں پہنچا سکتی ہے۔

بھارت: 3 میچ، چار پوائنٹس، نیٹ رن ریٹ +2.511

بھارت نے 2 فتوحات حاصل کیں لیکن جنوبی افریقہ سے شکست کے بعد اب اسے اگلے دونوں میچ انتہائی احتیاط کے ساتھ کھیلنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان ویمنز ٹیم نے تھائی لینڈ کوشکست دے کر آئی سی سی ورلڈ کپ 2025 کے لیے کوالیفائی کرلیا

جنوبی افریقہ: 3 میچ، 4 پوائنٹس، نیٹ رن ریٹ -0.546

جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا سے شکست کے بعد پاکستان اور بھارت کو شکست دے کر مقابلے میں آگیا تاہم کمزور نیٹ رن ریٹ اس کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔

بنگلہ دیش: 3 میچ، چار پوائنٹس، نیٹ رن ریٹ -0.641

مزید پڑھیں: ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

بنگلہ دیش نے پاکستان اور نیدرلینڈز کو شکست دی جبکہ آسٹریلیا کے خلاف اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف اس کے میچ فیصلہ کن ہوں گے۔

پاکستان اور نیدرلینڈز

پاکستان مسلسل 3 شکستوں کے بعد سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکا ہے جبکہ پہلی مرتبہ شرکت کرنے والی نیدرلینڈز کی ٹیم بھی ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔

گروپ بی کی صورتحال

گروپ بی میں میزبان انگلینڈ تینوں میچ جیت کر 6 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ ویسٹ انڈیز بھی 6 پوائنٹس کے ساتھ ناقابل شکست ہے۔

دفاعی چیمپیئن نیوزی لینڈ 3 میچوں میں صرف 2 پوائنٹس حاصل کر سکا ہے اور اس پر دباؤ بڑھ چکا ہے جبکہ اسکاٹ لینڈ اور سری لنکا کے پاس اب بھی محدود امکانات موجود ہیں۔ آئرلینڈ ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے۔

کن کھلاڑیوں پر ہوں گی نظریں؟

بھارت کو آسٹریلیا کے مضبوط بولنگ اٹیک کے خلاف سمرتی مندھانا اور ہرمن پریت کور سے بڑی اننگز کی امید ہوگی جبکہ دیپتی شرما اور شریانکا پاٹل کی اسپن بولنگ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے لیے تجربہ کار ایلیز پیری اور جارح مزاج اوپنر بیتھ مونی بدستور سب سے بڑے ہتھیار تصور کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: بھارت کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ لے اڑی، فائنل میں انگلینڈ کو 100 رنز سے شکست

بھارتی ویمنز ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی اب بھی اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ بنگلہ دیش کو شکست دے کر آسٹریلیا کے خلاف بھی مثبت نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آخری 4 ٹیموں میں جگہ بنا سکتی ہے تاہم غلطی کی اب کوئی گنجائش نہیں کیونکہ گروپ مرحلے کے اختتام تک ہر رن اور ہر وکٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp