سپریم کورٹ میں گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر مینوفیکچررز آف بناسپتی ایسوسی ایشن کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
سماعت کے دوران ایسوسی ایشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے حکومت کی درخواست پر گھی اور آئل کی قیمتوں میں کمی کی تھی اور اس حوالے سے تمام ریکارڈ موجود ہے۔
وکیل کے مطابق مسابقتی کمیشن نے 2010 میں 2008 کے ریکارڈ کی بنیاد پر کارروائی کی، حالانکہ قیمتوں میں کمی صارفین کے مفاد میں کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا صنم عمرانی کیس میں گواہیوں کا ریکارڈ درست کرنے کا حکم
دوسری جانب مسابقتی کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ حکومت کے کہنے پر بھی کوئی ایسوسی ایشن قیمتوں میں کمی کا فیصلہ نہیں کرسکتی، کیونکہ ایسوسی ایشن کے پاس قیمتوں کے تعین کا اختیار نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسوسی ایشن اجتماعی طور پر فیصلے کرے تو مسابقتی ماحول متاثر ہوتا ہے، جبکہ حقیقی مقابلے کے نتیجے میں ہی قیمتوں میں کمی آتی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہمارے ملک میں مسائل کی بنیاد کو نہیں دیکھا جاتا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا غیر قانونی بے دخلی کے مقدمات پر اہم فیصلہ، 60 روز میں نمٹانے کی ہدایت
انہوں نے کہا کہ اگر مسابقتی کمیشن کا مؤقف تسلیم کر لیا جائے تو کل حکومت بھی کسی معاملے میں مؤثر کردار ادا نہیں کرسکے گی۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ پولٹری کیس میں بھی ایسوسی ایشن پر جرمانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
یاد رہے کہ مسابقتی کمیشن نے 2010 میں قیمتوں میں کمی کے ایک فیصلے پر بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن پر 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا، جس کے خلاف دائر اپیل پر سپریم کورٹ نے آج فیصلہ محفوظ کیا ہے۔














