یورپی حکام کی جانب سے برسلز میں طالبان حکومت کے نمائندوں کی میزبانی یورپی یونین کے ان اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے جن کی بنیاد جمہوریت، انسانی حقوق اور احتساب پر رکھی گئی تھی۔
طالبان کی جانب سے قریباً 5 برس سے خواتین کو عوامی زندگی سے باہر رکھنے، لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود یورپی حکام کی جانب سے ان کے نمائندوں سے رابطہ بڑھانے کے فیصلے نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ یورپ جمہوریت اور انسانی حقوق کے بجائے جغرافیائی سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق برسلز میں طالبان حکومت کے نمائندوں کی میزبانی یورپ کی اس خارجہ پالیسی کی علامتی شکست ہے جو طویل عرصے سے اقدار اور اصولوں پر مبنی قرار دی جاتی رہی ہے۔ اس کے مطابق اب انسانی حقوق اور جمہوریت کے بجائے جغرافیائی سیاسی سہولت اور وقتی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ حکومتیں جو ماضی میں آمرانہ اور انتہا پسند عناصر سے روابط رکھنے پر دیگر ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتی تھیں، اب قریباً 5 برس کی مسلسل پابندیوں، وعدہ خلافیوں اور عالمی تنہائی کے باوجود طالبان حکومت کو سفارتی سطح پر جگہ فراہم کررہی ہیں۔
طالبان سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی
طالبان حکومت نے ماضی میں بین الاقوامی رعایتیں مختلف وعدوں کی بنیاد پر حاصل کیں، تاہم بعد میں قریباً ہر بڑے سیاسی، سیکیورٹی اور حکمرانی سے متعلق وعدے کی خلاف ورزی کی۔ یورپ ایک مرتبہ پھر عدم تعمیل کو انعام دینے کی اسی روش کو دہرا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان کی سرزمین دہشتگرد تنظیموں کی پناہ گاہ نہیں بننے دی جائے گی، کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، سیاسی مفاہمت کو فروغ دیا جائےگا اور ایک جامع حکومت قائم کی جائے گی، تاہم قریباً 5 برس گزرنے کے باوجود یہ تمام بنیادی وعدے پورے نہیں ہوئے۔
دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کا دعویٰ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی مسلسل رپورٹس افغانستان میں 20 سے زیادہ دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کی نشاندہی کرتی رہی ہیں، جبکہ دہشتگرد جنگجوؤں کی تعداد 13 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور جماعت انصار اللہ شامل ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کا انسداد دہشتگردی سے متعلق مؤقف اس وقت کمزور پڑ گیا جب القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کابل میں طالبان کے زیر کنٹرول ایک محفوظ گھر میں مارے گئے۔
خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کا ذکر
رپورٹ کے مطابق 22 لاکھ سے زیادہ افغان لڑکیاں اب بھی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں جبکہ خواتین کو ملازمت، آزادانہ نقل و حرکت، صحت کی سہولیات اور عوامی زندگی میں شرکت سمیت مختلف شعبوں میں پابندیوں کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین ان پالیسیوں کو بڑھتے ہوئے ’جینڈر اپارتھائیڈ‘ قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021 سے طالبان حکومت خواتین اور لڑکیوں کے خلاف 230 سے زیادہ احکامات اور ہدایات جاری کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی سطح پر امتیازی سلوک کا ایک وسیع نظام قائم ہو گیا ہے۔
انسانی بحران اور معاشی مشکلات
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں قریباً 2 کروڑ 10 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ ملک کی قریباً 65 فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے۔ افغانستان اب بھی محدود اور نظریاتی طرز حکمرانی کے نتائج بھگت رہا ہے۔
طالبان حکومت کو معمول پر لانے کے خطرات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر طالبان حکومت کو صرف تارکین وطن کی واپسی کے انتظامات یا قلیل مدتی ہجرتی مسائل کے حل کے لیے معمول کا سفارتی درجہ دیا جاتا ہے تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔ اس کے مطابق وقتی سیاسی سہولت دہشتگردی، جبر اور بنیادی انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے ریکارڈ کو ختم نہیں کر سکتی۔
مزید پڑھیں: ہرات سے یورپ تک احتجاج، طالبان کی خواتین مخالف پالیسیوں کو بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قابلِ تصدیق اصلاحات کے بغیر طالبان کو دی جانے والی ہر سفارتی رعایت عالمی انسداد دہشتگردی کے نظام کو کمزور کرے گی، انسانی حقوق کے عالمی معیار کو نقصان پہنچائے گی اور یہ پیغام دے گی کہ دہشتگردی اور جبر کی اب کوئی مؤثر سیاسی قیمت باقی نہیں رہی۔
یورپ کے کردار پر سوال
رپورٹ کے مطابق یورپ خود کو طویل عرصے تک جمہوریت، انسانی حقوق اور احتساب کا عالمی محافظ قرار دیتا رہا، تاہم برسلز اب اس بات کی علامت بنتا جا رہا ہے کہ اصولی سیاست کی جگہ عملی سیاست نے لے لی ہے، اخلاقی یکسانیت کے بجائے تزویراتی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے اور دنیا کی سخت ترین حکومتوں میں شمار ہونے والی طالبان حکومت کو عملی طور پر جواز فراہم کیا جا رہا ہے۔














