برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی اردو) کی آزاد کشمیر کے حوالے سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کو یکطرفہ اور انتہائی گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے منفی کردار کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ حقائق کو مسخ کرتے ہوئے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بناتی ہے اور انہیں حالات کا موردِ الزام ٹہراتی ہے، جبکہ خود بی بی سی کی جانب سے شائع کی گئی تصویر میں شہری لباس میں ملبوس ڈنڈا بردار عناصر کو روڈ بلاک پر واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو عام معافی دینے کا امکان مسترد کردیا
علاقائی صورتِ حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں کے دوران خوراک، ادویات، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کی شدید قلت پیدا ہوئی تھی جو کہ دراصل کالعدم جے اے اے سی کی جانب سے کی جانے والی ناکہ بندی، جبری بندشوں اور اہم راستوں کو بلاک کرنے کا براہِ راست نتیجہ تھی۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ کالعدم جے اے اے سی کی ان زبردستی اور انتشار انگیز کارروائیوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کر کے بی بی سی نے ایک بار پھر پاکستان مخالف یکطرفہ بیانیے کو آگے بڑھایا ہے، جس کے بعد بی بی سی اردو کی صحافتی ساکھ اور غیر جانبداری پر شدید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے لگی، شوکت نواز میر بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا
واضح رہے کہ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں مقامی شہریوں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں اور پونچھ سیکٹر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر باہر سے آنے والی خوراک، ادویات اور ایندھن کی گاڑیوں کو روکا جا رہا ہے، جس سے خطے میں فاقہ کشی اور روزمرہ اشیا کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پولیس نے کسی بھی مقام پر کھانے پینے کا سامان لانے والی گاڑیوں کو نہیں روکا، بلکہ کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے خود سڑکیں بلاک کر رکھی ہیں اور جو ٹرک ان کے ناکوں کو عبور کر کے آتے ہیں، پولیس انہیں منزل تک پہنچانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔














