امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی اتحادی ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ ان کی سلامتی اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان دنیا میں ’پیس میکر‘ بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک پائیدار امن معاہدہ چاہتا ہے تاہم ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جائے گا جو خطے میں امریکی اتحادیوں کی سلامتی یا خوشحالی کو نقصان پہنچائے۔
مارکو روبیو کا 3 روزہ خلیجی دورہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور 100 روز سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کے فریم ورک پر مبنی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) طے پانے کے بعد پہلا اعلیٰ سطحی سفارتی مشن ہے۔ یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
روبیو نے تسلیم کیا کہ ان کا سفارتی مشن انتہائی حساس نوعیت کا ہے کیونکہ وہ ایسے خلیجی عرب رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو خدشہ رکھتے ہیں کہ ایران کو زیادہ رعایتیں دینے سے تہران مزید مضبوط ہو سکتا ہے اور خطے کے سیکیورٹی توازن اور تیل کی ترسیل کے نظام پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیجی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ اتحادی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسے امن کے لیے تیار ہیں جو حقیقی، دیرپا ہو اور امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی اور خوشحالی کو نقصان نہ پہنچائے۔
متحدہ عرب امارات اور کویت کے اپنے سابقہ دوروں کے دوران بھی روبیو نے حکام کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے حق میں غیر معمولی طور پر نرم نہیں ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ کے دوران ایران نے متعدد خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا تھا۔
دریں اثنا کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جو ہمارے اتحادیوں، خصوصاً خطے میں ہمارے دیرینہ اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچائے۔
’آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کسی ملک کو ٹیکس وصول کرنے کا حق حاصل نہیں‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کسی بھی ملک کو وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس یا ٹول ٹیکس وصول کرنے کا حق حاصل نہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ خلیجی ممالک نے بھی آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ یا جہازوں کی نقل و حرکت روکنا کسی بھی ممکنہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
مارکو روبیو نے بتایا کہ خلیجی ممالک نے ایران سے متعلق بعض سنجیدہ تحفظات سے امریکا کو آگاہ کیا ہے تاہم ایران کی تعمیر نو کے لیے مجوزہ فنڈ یا مالی معاونت کے معاملے پر خلیجی ممالک کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
امریکی وزیر خارجہ نے خطے میں سرگرم پراکسی گروپوں کو ایران کی جانب سے حاصل حمایت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے گروپ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے یورپی اتحادیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے فوجی اڈے فراہم کرنے سے انکار نے امریکا اور یورپ کے دفاعی اتحاد کو کمزور کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران سے لاحق خطرہ امریکا کے مقابلے میں یورپ کے لیے زیادہ سنگین نوعیت کا ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کی صدارت کرنے والے بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے عمان کی جانب سے اعلان کردہ راہداری کا خیرمقدم کیا۔
خلیجی دورے کا مقصد ایران معاہدے پر اعتماد سازی
مارکو روبیو کا تین روزہ خلیجی دورہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد پہلا بڑا سفارتی مشن قرار دیا جا رہا ہے۔
اس دورے کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں حکام سے ملاقاتیں کیں اور انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ مجوزہ معاہدہ ایران کو غیر معمولی رعایتیں دینے پر مبنی نہیں۔
کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا اپنے دیرینہ اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
معاہدے کی شرائط پر متضاد بیانات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مستقل بنیادوں پر جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر ازبکستان کی پاکستان کو مبارکباد، سفارتی کردار اور امن کوششوں کو سراہا
دونوں ممالک کے بیانات میں مالی مراعات، آبنائے ہرمز کے مستقبل، اسرائیلی حملوں اور دیگر اہم معاملات پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ایران کے میزائل پروگرام پر پابندی نہیں
مجوزہ ایران امریکا معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی واضح پابندی شامل نہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر خطے کے دیگر ممالک کے پاس میزائل موجود ہیں تو ایران کو مکمل طور پر اس صلاحیت سے محروم رکھنا غیر منصفانہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے، جبکہ میزائلوں اور خطے میں سرگرم پراکسی گروہوں جیسے معاملات پر بعد میں بات چیت کی جائے گی۔
خلیجی ممالک کا اہم کردار
جی سی سی کے تمام 6 رکن ممالک سعودی عرب، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت امریکا کے اہم اسٹریٹجک اتحادی ہیں اور ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران مختلف سطحوں پر واشنگٹن کی معاونت کرتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان ممالک کے تحفظات اور ردعمل امریکا کی مشرق وسطیٰ پالیسی اور خطے کے مستقبل کے سیکیورٹی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں مکمل ہوا تھا جبکہ قطر اور پاکستان سمیت ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک نے مذاکراتی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔












