افغان سرزمین سے پراکسی جنگ امریکی مفادات کے لیے خطرہ قرار، پاکستان سے انسداد دہشتگردی تعاون بڑھانے کی تجویز

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف دہشتگرد تنظیموں اور پراکسی نیٹ ورکس کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں امریکا کے طویل المدتی اسٹریٹجک، معاشی اور جغرافیائی سیاسی مفادات کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر اس صورتحال پر توجہ نہ دی گئی تو خطے میں چین کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ علاقائی روابط، مغربی سرمایہ کاری اور انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مغربی صوبے، خصوصاً بلوچستان، تانبے، سونے اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے ضروری نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر رکھتے ہیں۔ صرف ریکوڈک منصوبے میں اربوں ٹن معدنیات موجود ہیں، تاہم دہشتگردی اور بدامنی کے باعث مغربی سرمایہ کار اس خطے میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں، جس سے امریکی کمپنیوں کے لیے مستقبل کے معاشی مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان کی سرزمین پر ہزاروں دہشتگرد موجود، شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جانے لگا

رپورٹ کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستیں روس پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں ہیں، جن کے لیے پاکستان قدرتی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم افغانستان اور پاکستان میں بدامنی کے باعث علاقائی رابطوں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور تجارتی راہداریوں کی تکمیل متاثر ہو رہی ہے، جس سے وسطی ایشیا کی عالمی منڈیوں تک رسائی بھی محدود ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل دہشتگردی کے باعث پاکستان کو سلامتی کے شعبے میں بیرونی تعاون درکار ہوتا ہے، جس کا فائدہ چین اٹھا رہا ہے۔ چین نہ صرف سیکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون بڑھا رہا ہے بلکہ نگرانی کے جدید نظام اور اہم منصوبوں کے تحفظ میں بھی اپنا کردار وسیع کر رہا ہے۔ اس طرح خطے میں امریکی عدم موجودگی کا خلا بتدریج بیجنگ پُر کر رہا ہے۔

تجزیے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکا نے 2 دہائیوں تک افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ پر بھاری وسائل خرچ کیے، لیکن اب بھی متعدد شدت پسند تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خلاف ہونے والے حملے ایک اہم علاقائی شراکت دار کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ ایسے دہشتگرد نیٹ ورکس مستقبل میں سرحدوں سے ماورا خطرات کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، ذبیح اللہ مجاہد

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں بالآخر صرف چین ہی نہیں بلکہ امریکا کے وسیع تر مفادات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اگرچہ بھارت مغربی پاکستان میں عدم استحکام کو اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے مفید سمجھ سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مغربی سرمایہ کاری، علاقائی تجارت اور امریکا کی معدنی وسائل تک رسائی بھی متاثر ہوگی۔

رپورٹ میں امریکا کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران قائم کیے گئے طرز پر پاکستان کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ کا مؤثر نظام دوبارہ فعال کرے اور پاکستان کو جدید نگرانی کے نظام، ڈرونز، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، سگنلز انٹیلیجنس، مواصلاتی نگرانی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی انٹیلیجنس نظام جیسی صلاحیتوں کی فراہمی پر غور کرے تاکہ دہشتگردی کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ طالبان حکومت پر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے، شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے اور انسداد دہشتگردی میں عملی تعاون کے لیے دباؤ بڑھائے۔

مزید کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اکثر بیرون ملک موجود مالی، سیاسی اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس سے بھی فائدہ اٹھاتی ہیں، اس لیے امریکا کو یورپی ممالک، برطانیہ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کی مالی معاونت، انتہا پسند نیٹ ورکس، سیاسی پلیٹ فارمز کے غلط استعمال اور پناہ گزین نظام کے ناجائز استعمال کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے چاہییں۔

مزید پڑھیں:کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، گرفتار دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا استحکام صرف پاکستان کا نہیں بلکہ امریکا کا بھی اسٹریٹجک مفاد ہے۔ پاکستان کے مغربی علاقوں میں پراکسی جنگ اور دہشتگردی سے نہ صرف خطے کا امن متاثر ہوتا ہے بلکہ امریکا کے معدنی وسائل، وسطی ایشیا سے روابط، معاشی انضمام، انسداد دہشتگردی اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک مسابقت سے متعلق طویل المدتی اہداف بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنا کر، افغان سرزمین کو پراکسی جنگ کے لیے استعمال ہونے سے روک کر اور دہشتگردوں کے بیرونی معاون نیٹ ورکس کا خاتمہ کرکے امریکا اپنے طویل المدتی مفادات کا زیادہ مؤثر تحفظ کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp