سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری کو پانی کو ہتھیار بنانے کے اس خطرناک رجحان کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خرم دستگیر خان نے کہا کہ وہ زندہ دریاؤں کے حق میں آواز اٹھانے آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے نہ صرف عالمی قانون کی توہین کی بلکہ دریاؤں کا گلا گھونٹنے کی کوشش بھی کی ہے، جبکہ پانی کو ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو دنیا کا کوئی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا، مصدق ملک
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ یہ معاہدہ غیر معمولی مضبوطی اور لچک کا حامل ہے اور اس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل یا ختم کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اسی لیے معاہدے کی یکطرفہ معطلی قانونی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
خرم دستگیر خان نے کہا کہ معاملہ صرف معاہدے کی معطلی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے بعد بھارتی قیادت کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات بھی سامنے آئے۔ بھارتی وزراء نے یہ دعوے کیے کہ پاکستان کو دریائے سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملنے دیا جائے گا اور سندھ طاس معاہدہ دوبارہ بحال نہیں ہوگا۔ یہ بیانات دراصل اس پالیسی کا تسلسل ہیں جس کا اظہار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2016 سے کرتے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 سے بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بھارت مشرقی دریاؤں میں پیشگی اطلاع دیے بغیر بڑی مقدار میں پانی چھوڑ دیتا ہے، جس سے پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جبکہ بعض اوقات پانی روک کر زرعی اور انسانی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان اقدامات سے تقریباً 73 لاکھ پاکستانی متاثر ہوئے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سطح پر پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے اور عالمی ثالثی عدالت بھی واضح کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کی روح بھی یہی ہے کہ پانی کو کسی دوسرے تنازع یا سیاسی دباؤ کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
خرم دستگیر خان نے کہا کہ کسی بڑی آبادی کو پانی سے محروم کرکے اسے غذائی قلت اور انسانی بحران سے دوچار کرنا ایک عالمی جرم ہے۔ بھارت دانستہ طور پر 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور سندھ کے نشیبی علاقوں کو پانی سے محروم رکھ کر کروڑوں افراد کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں شامل دریاؤں کا تعلق صرف پانی سے نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیب، معیشت اور قومی بقا سے ہے۔ دریائے سندھ ہزاروں برس پرانی تہذیب کی علامت ہے، اس لیے اس کا تحفظ ہماری تاریخی اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔
خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان ہر صورت اپنے حصے کے پانی اور اپنی تہذیبی وراثت کا دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے 4 جنگوں میں وطن کا کامیابی سے دفاع کیا، اسی طرح ملک اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ہر قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم پر بھرپور آواز اٹھاتا رہے گا تاکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔














