وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث پاکستان میں کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جبکہ اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بنگلہ دیش سمیت دیگر نشیبی ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے نیل ہو، دریائے فرات یا دریائے سندھ، دنیا کے مختلف خطوں میں پانی سے متعلق چیلنجز ایک جیسے ہیں، اس لیے یہ مسئلہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرالہ ہیڈ ورکس پر کبھی بھارت کی جانب سے انتہائی کم پانی چھوڑا جاتا ہے اور کبھی اچانک سیلابی ریلہ آ جاتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ وہ دنیا میں آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک میں بھی شامل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی اقدامات کے باعث پاکستان میں چھ ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ اتنی بڑی انسانی قیمت کئی جنگوں میں بھی دیکھنے میں نہیں آتی۔
سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو دنیا کا کوئی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا، مصدق ملک pic.twitter.com/BqlphGXYP8
— WE News (@WENewsPk) June 30, 2026
وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 3 جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اتنا مضبوط معاہدہ بھی برقرار نہ رہ سکا تو پھر دنیا کا کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا اور کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے، جہاں عدالت متعدد واضح فیصلے دے چکی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی ملک سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، نہ ہی پاکستان کے حصے کے دریاؤں کے بہاؤ کا رخ موڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان دریاؤں پر ایسے آبی ذخائر تعمیر کر سکتا ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہوں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو بھی تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اگر سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے ہر اس ملک کو خطرہ لاحق ہو جائے گا جو بالائی اور زیریں دریائی نظام پر انحصار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی آبی تحفظ، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کا معاملہ ہے۔
بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانا غیر قانونی، آبی تنازع کو جنگ نہیں قانون کے ذریعے حل ہونا چاہیے، احمر بلال صوفی
ماہر بین الاقوامی قوانین احمر بلال صوفی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پانی، ہوا اور خوراک کو بنیادی انسانی ضروریات تسلیم کیا جا چکا ہے، اس لیے پانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی نہ صرف قانونی بلکہ انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’غیر موجودہ‘ یا غیر مؤثر حالت میں رکھنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو دیگر سیاسی اور دوطرفہ معاملات سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ بین الاقوامی معاہدوں کو اس انداز سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد اگر بھارت کو پاکستان سے کوئی اعتراض یا مطالبہ تھا تو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اسے پاکستان کو تحریری طور پر معلومات اور تحقیقات میں تعاون کی درخواست کرنا چاہیے تھی، مگر بھارت نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے کشیدگی اور جنگ کا راستہ اپنایا۔
احمر بلال صوفی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھا چکا ہے، کیونکہ یہ اقدام نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کی بھی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، عالمی امن اور سلامتی کا معاملہ بن گیا
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود ہر تنازع کا ایک قانونی پہلو بھی ہے، جسے بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے قانونی ماہرین کے درمیان باقاعدہ مکالمہ مسائل کے پائیدار حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہر بین الاقوامی قانون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور اپنی معاہداتی ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی عالمی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے قومی مفادات اور آبی حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔














