سندھ طاس معاہدے پر اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں قومی و بین الاقوامی ماہرین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر اور قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے۔
سیمینار کے مقررین نے زور دیا کہ پانی کو کسی بھی صورت ہتھیار یا سیاسی دباؤ کے ذریعے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ بین الاقوامی قانون باہمی تعاون، مذاکرات اور معاہدوں کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ جبر یا یکطرفہ اقدامات کا۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو دنیا کا کوئی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا، مصدق ملک
شرکا نے سندھ طاس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 6 دہائیوں سے یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی تعاون اور علاقائی استحکام کی بنیاد بنا ہوا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ، معیشت اور 24 کروڑ سے زائد عوام کا روزگار اور مستقبل دریاؤں کے مستقل اور متوقع بہاؤ سے وابستہ ہے، اس لیے پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال کے سنگین معاشی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
سیمینار میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے تمام تنازعات کو معاہدے میں موجود قانونی طریقہ کار، بشمول مستقل انڈس کمیشن اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز، کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور کسی بھی فریق کو یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کی تقسیم کے قائم شدہ نظام میں خلل ڈالنے سے نہ صرف علاقائی امن اور استحکام متاثر ہوگا بلکہ ریاستوں کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچے گا۔
شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے، جبکہ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت، سالمیت اور مؤثر عمل درآمد کا تحفظ صرف قانونی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن اور آبی وسائل کے ذمہ دارانہ انتظام کے لیے بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔














