پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال، آئندہ انتخابات اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف موجود تھے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وفد میں انجینیئر ضیاالرحمان اور مولانا اسجد محمود شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر سیاست ہو رہی ہے، فضل الرحمان کی ثالثی پر کوئی اعتراض نہیں، وفاقی وزرا
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں لانگ مارچ، دھرنے اور ہڑتالیں جاری ہیں، اس باب کو ختم ہونا چاہیے تاکہ آزاد کشمیر میں آزادانہ انتخابی مہم شروع کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان انتخابی اتحاد ہونے جا رہا ہے، جو دونوں جماعتوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے اور اس مقصد کے لیے دونوں جماعتیں مل کر کام کریں گی، تاہم اس وقت پہلی ترجیح آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے بحران کا خاتمہ ہے، جس کے لیے وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے احتجاج کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہمیشہ پرامن ہونا چاہیے، جبکہ غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے یا قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ مسائل کا حل سڑکوں کے بجائے پارلیمان اور ایوانوں میں تلاش کیا جائے۔
انتخابات سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ جب تک پاکستان پیپلز پارٹی کا پارلیمانی بورڈ امیدواروں کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتا، اس وقت تک وہ ٹکٹوں کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں مضبوط پوزیشن میں ہے، انتخابی مہم کے لیے تیار ہے اور پارلیمانی بورڈ پارٹی اور آزاد کشمیر کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کو حل کرنا اب آپ کی ذمہ داری ہے، بلاول بھٹو کا فیصل راٹھور سے مکالمہ
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ وہاں حالات خراب ہوں۔ ہر پاکستانی کی طرح وہ بھی ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والے تشدد کے مناظر کی مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام سیاسی مسائل کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کا کام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے اور دنیا بھر میں جمہوری انداز میں احتجاج اور مطالبات پیش کرنے کی روایت موجود ہے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام کئی نسلوں سے اپنے سیاسی مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے آ رہے ہیں، اس لیے ان کے حقیقی مسائل بھی سیاسی طریقے سے حل کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتہا پسندی، علیحدگی پسندی اور قوم پرستی کے رجحانات کا ہمیشہ سیاسی انداز میں مقابلہ کرتی آئی ہے اور آئندہ بھی یہی راستہ اختیار کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری صرف قانون کی حکمرانی اور ریاستی رٹ قائم کرنا نہیں بلکہ احتجاج کرنے والوں، سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی مختلف سیاسی بحران، چاہے وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے ہوں، پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک ہو یا تحریک لبیک پاکستان کے معاملات، ان سب کا حل بالآخر سیاسی مذاکرات سے نکالا گیا۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے مسائل بھی سیاسی انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ ن انتخابی مہم کا آغاز کرکے دیگر سیاسی جماعتوں پر بازی لے گئی
انہوں نے کہا کہ سندھ، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی قوم پرستی اور علیحدگی پسندی جیسے چیلنجز کا مقابلہ ہمیشہ سیاسی طریقے سے کیا گیا ہے، اس لیے کشمیر کا بھی کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا سیاسی حل موجود نہ ہو۔
آزاد کشمیر حکومت اور احتجاجی جماعتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ 5 سے 6 ماہ کے دوران انہوں نے اپنی جماعت اور حکومت کو واضح ہدایت دی کہ حکومت اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام نکات پر مکمل عمل درآمد کرے۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان پیپلز پارٹی نے نہیں بلکہ ریاست آزاد کشمیر نے کیا تھا، تاہم ان کی خواہش تھی کہ انتخابات سے پہلے معاہدے کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر آزاد کشمیر حکومت کی ذمہ داری میں آنے والے تمام وعدے پورے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے اپنی ذمہ داری سے متعلق تقریباً تمام نکات پر عمل درآمد کر دیا ہے، تاہم دو معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہے، جسے صرف آئینی اور قانونی ترمیم کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹ کافی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ دوسرا معاملہ مالی وسائل سے متعلق ہے، جس کے لیے وفاقی حکومت سے تعاون درکار ہے، تاہم اگر سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو جائے تو ان دونوں مسائل کا حل بھی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیریوں کا روشن مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ، کچھ لوگ حالات خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کرنل (ر) شیراز
انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے کہ احتجاج کی نوبت نہ آئے اور تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔ اگر اس معاملے میں ان کی جماعت یا حکومت کی کوئی ذمہ داری بنتی ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ کشمیر کو مزید نقصان پہنچے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان چونکہ آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہیں، اس لیے وہ ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم بھی جلد مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کریں گے تاکہ اس اہم قومی معاملے کا قابل قبول سیاسی حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی مشاورت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنائیں۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر میں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہے تو وہ اس کی مکمل تائید کریں گے۔ تاہم بلوچستان میں مشترکہ حکومت سازی سے متعلق فیصلہ پارٹی کی صوبائی قیادت کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے تمام سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور جمہوری عمل میں ہے، انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں سمیت تمام معاملات مذاکرات کی میز پر طے ہونے چاہییں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی فریق کا مطالبہ ہے کہ ان نشستوں کا موجودہ نظام ختم کیا جائے تو اس پر بھی سیاسی سطح پر بات چیت کی جاسکتی ہے اور متبادل حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس پر سیاسی دلائل کے ساتھ بات ہونی چاہیے۔ ہر جائز مطالبے پر بات چیت ہو سکتی ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے۔











