وفاقی وزرا خواجہ آصف اور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر سیاست ہورہی ہے، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
مزید پڑھیں: بی بی سی کی آزاد کشمیر کے حوالے سے یکطرفہ اور گمراہ کن رپورٹنگ، حقائق کیا ہیں؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ کچھ لوگوں کی جانب سے مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر سیاست کی جارہی ہے، میں اس حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم ہوں۔
انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو کی تنقید کا خیر مقدم کرتا ہوں، یہ ان کا اپنا نکتہ نظر ہے، مجھے مولانا فضل الرحمان کی ثالثی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان کی کشمیریوں کے ساتھ جذباتی دلچسپی ہے، ہم ان کی تحریک آزادی کشمیر کو سپورٹ کررہے ہیں، اور انڈیا سے کئی جنگیں لڑ چکے ہیں۔
آزاد کشمیر میں مظاہرین کا مسئلہ ہٹ دھرمی اور ضد کا ہے، رانا ثنااللہ
دوسری جانب مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ نے کہاکہ آزاد کشمیر میں مظاہرین کا مسئلہ ہٹ دھرمی اور ضد کا ہے، مولانا فضل الرحمان معاملات کو پوری طرح سمجھیں اور رہنمائی کریں۔
انہوں نے کہاکہ اگر احتجاجی مظاہرین کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا گیا ہے تو ان کے مطالبے پر اپنی ضد سے بھی پیچھے ہٹیں۔
واضح رہے کہ کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولاکوٹ میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جسے دو ہفتوں سے زیادہ وقت ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی، 154 رہنما و کارکن فورتھ شیڈول میں شامل
دوسری جانب سے حکومت نے واضح فیصلہ کیا ہے کہ جب تک کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج ختم نہیں کیا جاتا ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔













