کشمیریوں کا روشن مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ، کچھ لوگ حالات خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کرنل (ر) شیراز

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دفاعی تجزیہ کار کرنل (ر) شیراز کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کا روشن اور محفوظ مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے تاہم بعض عناصر حالات خراب کرنے اور امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تمام کشمیری پاکستانی اور تمام پاکستانی کشمیری ہیں، اوورسیز کشمیری رہنماؤں کی پارلیمنٹ آمد پر گفتگو

وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے کرنل (ر) شیراز نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک، مہاجرین کی 12 نشستوں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کردار، ریاستی پالیسی، کشمیری عوام کی سوچ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں جاری صورتحال کے پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے، چند عناصر صرف مہاجرین کی سیٹوں کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔

پاکستان کے سفارتی کردار کو بڑی کامیابی قرار

انہوں نے گفتگو کے آغاز میں ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو غیر معمولی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایران اور امریکا کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے خطے کے حوالے سے موجود کئی تصورات اور مفروضے بھی ٹوٹے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تاثر یہ پایا جاتا تھا کہ امریکا مکمل طور پر خطے میں بھارت پر انحصار کر رہا ہے اور بھارت، اسرائیل اور امریکا کا ایک ایسا گٹھ جوڑ موجود ہے جو پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے، تاہم پاکستان نے جس مقام پر کردار ادا کیا ہے وہ دراصل اپنی سلامتی کی ضمانت لینے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیے: آزادکشمیر انتخابات: کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 23 جون مقرر

کرنل (ر) شیراز نے کہاکہ ایسی صورتحال میں تمام پاکستانیوں اور کشمیریوں کو اس کامیابی پر خوشی منانی چاہیے تھی، لیکن بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں کچھ عناصر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ ہیں‘

انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام جانتے ہیں کہ ان کا روشن مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے اور اسی وجہ سے اکثریت پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم ایک محدود طبقہ ایسا ہے جو مختلف معاملات کو بنیاد بنا کر انتشار پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی ابتدا میں عوامی فلاح و بہبود کے مقصد سے سامنے آئی تھی اور اس کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کا حل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں اس پلیٹ فارم نے بعض معاملات میں کامیابیاں بھی حاصل کیں جن میں سستی بجلی اور آٹے کی فراہمی جیسے معاملات شامل تھے۔

 جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنے اصل مقصد سے ہٹ گئی

کرنل (ر) شیراز کا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو فلاحی اور عوامی مسائل تک محدود رہنا چاہیے تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ گئی اور ایسے معاملات میں الجھ گئی جن سے موجودہ بحران نے جنم لیا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں ہنگامہ آرائی کی منصوبہ بندی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی لیک آڈیو کال سامنے آگئی

انہوں نے کہاکہ اس وقت آزاد کشمیر میں خوف اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے، اور عوام مشکلات کا شکار ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ ریاستی ادارے، حکومت آزاد کشمیر اور پاکستان کی قیادت مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکال لیں گے۔

12 مہاجر نشستوں کا تنازع کیا ہے؟

انہوں نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اعتراضات کا مرکز آزاد کشمیر اسمبلی کی 12 مہاجر نشستیں ہیں، جن میں جموں اور وادی کشمیر کی 6،6 نشستیں شامل ہیں۔

کرنل (ر) شیراز نے کہاکہ آزاد کشمیر کی اسمبلی کو پورے جموں و کشمیر کی نمائندہ اسمبلی تصور کیا جاتا ہے اور اسی تناظر میں یہ نشستیں رکھی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ مہاجرین کی نشستیں حکومتیں بنانے اور گرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، مہاجرین کے لیے مختص فنڈز آزاد کشمیر سے باہر خرچ ہوتے ہیں اور یہ نمائندے آزاد کشمیر میں رہائش بھی نہیں رکھتے، اس لیے انہیں اسمبلی میں نمائندگی حاصل نہیں ہونی چاہیے۔

’مہاجر نشستیں ختم کرنا نظریاتی مسئلہ ہے‘

کرنل (ر) شیراز نے کہاکہ اگر ان نشستوں کو ختم کرنے کی بات کی جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے نظریاتی مؤقف میں کوئی تبدیلی آ گئی ہے؟

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات 2026: مسلم لیگ (ن) نے 37 حلقوں کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

انہوں نے کہاکہ بھارت نے بھی مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں آزاد کشمیر کی نشستیں رکھی ہوئی ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان میں مہاجرین حقیقی معنوں میں موجود ہیں اور نمائندگی رکھتے ہیں جبکہ بھارت کی نشستیں علامتی نوعیت کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان نشستوں کا خاتمہ آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں اور یہ محض سیاسی نعرے بازی سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔

’یہ دراصل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی جنگ ہے‘

کرنل (ر) شیراز نے 12 نشستوں کے تنازع کو بنیادی طور پر سیاسی جنگ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کا تعلق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی مفادات سے ہے۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں بھی حکومت سازی کے معاملات ان نشستوں سے متاثر ہوتے ہیں، اسی لیے یہ معاملہ زیادہ حساس بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بعض سیاسی بیانات نے اس تنازع کو مزید ہوا دی اور ایسے عناصر کو موقع ملا جو اس معاملے کو بڑھانا چاہتے تھے۔

’پاکستان کو ان نشستوں سے کوئی فائدہ یا نقصان نہیں‘

انہوں نے واضح کیاکہ 12 مہاجر نشستوں کے معاملے میں پاکستان کا کوئی ذاتی فائدہ یا نقصان نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی اور آئینی مسئلہ ہے۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے لگی، شوکت نواز میر بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آزاد کشمیر کے انتظامی اور سفارتی معاملات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔

مہاجرین کے خلاف نفرت کیوں پیدا ہوئی؟

کرنل (ر) شیراز نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تمام لوگ مہاجرین کے مخالف نہیں، تاہم کچھ حلقوں میں یہ احساس موجود ہے کہ یہ لوگ مہاجرین کے حقیقی نمائندے نہیں۔

انہوں نے کہاکہ بعض مہاجر سیاستدانوں کے طرز عمل اور حکومتوں کی تبدیلی میں ان کے کردار نے عوامی ردعمل پیدا کیا جس کے نتیجے میں ان کے خلاف نفرت کے جذبات ابھرے۔

تاہم انہوں نے زور دے کر کہاکہ یہ پورے کشمیر کا مسئلہ نہیں بلکہ محدود حلقوں کی سوچ ہے اور عام عوام کو 12 نشستوں کے معاملے کی تفصیلات کا بھی زیادہ علم نہیں۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کرنل (ر) شیراز نے کہا کہ وہ ریاستی اداروں پر غلط ہینڈلنگ کا الزام نہیں لگاتے۔

مزید پڑھیے: پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھا، نواز شریف کا آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے قریباً 36 مطالبات پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں اور باقی معاملات پر بھی بات چیت کی گنجائش موجود تھی۔

انہوں نے کہاکہ جمہوری نظام میں کوئی بھی فریق 100 فیصد کامیابی حاصل نہیں کرتا بلکہ معاملات مذاکرات اور مفاہمت سے حل کیے جاتے ہیں۔

سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے تھا

انہوں نے کہاکہ اگر حکومت نے کسی معاملے پر مزید غور کے لیے چند دن مانگے تھے تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقت دینا چاہیے تھا۔

ان کے مطابق بعض علیحدگی پسند عناصر اور خودمختار کشمیر کے حامی حلقوں نے بھی اس تحریک پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ کسی بھی نظریے کا حامل ہونا بری بات نہیں، لیکن جب نظریات نفرت، اشتعال انگیزی اور فساد میں تبدیل ہو جائیں تو پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

کشمیری حساس خطے کی حقیقت سے آگاہ تھے

کرنل (ر) شیراز نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو معلوم تھا کہ کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اگر معاملات شدت اختیار کرتے ہیں تو انسانی جانوں کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی ایم راولاکوٹ پر حملہ کرنے والے ملزمان کو پولیس کے حوالے کیا جائے، غیرجانبدار بزرگان کشمیر سامنے آگئے

ان کے مطابق اس حقیقت کے باوجود احتجاجی راستہ اختیار کرنا مناسب فیصلہ نہیں تھا۔

بھارتی مداخلت کے امکانات مسترد نہیں کیے جا سکتے

بھارت کے ممکنہ کردار کے بارے میں سوال پر کرنل (ر) شیراز نے کہا کہ کشمیری محب وطن لوگ ہیں اور بھارت کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں بھی انہوں نے دی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات نے ایسے مواقع پیدا کر دیے ہیں جن سے بھارتی خفیہ ادارے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جب داخلی طور پر انتشار پیدا ہو جائے تو دشمن قوتوں کے لیے مداخلت آسان ہو جاتی ہے اور اسی وجہ سے کشمیری قیادت کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

بیرون ملک فنڈنگ کے ذریعے اثر انداز ہونے کا خدشہ

انہوں نے کہاکہ بیرون ملک مقیم افراد کے ذریعے مالی معاونت اور اثر و رسوخ کے امکانات موجود رہتے ہیں اور دشمن قوتیں ان ذرائع کو استعمال کر سکتی ہیں۔

ان کے مطابق بعض اوقات ایسے لوگ بھی استعمال ہو جاتے ہیں جنہیں خود معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کسی بڑے منصوبے کا حصہ بن رہے ہیں۔

عوام ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیوں گئے؟

کرنل (ر) شیراز نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ابتدائی کامیابیوں نے عوام میں یہ تاثر پیدا کیا کہ وہ ہر مسئلے کا حل نکال سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سستی بجلی اور آٹے کے اقدامات نے عوامی حمایت میں اضافہ کیا اور اسی وجہ سے نوجوان بڑی تعداد میں اس تحریک کے ساتھ جڑ گئے۔

ہڑتالوں سے عوام اور معیشت کو نقصان پہنچا

انہوں نے کہاکہ موجودہ احتجاج اور سڑکوں کی بندش نے عام لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر کر دی ہے۔

ان کے مطابق مزدور طبقہ، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد، کاروباری حضرات اور بینکنگ سیکٹر سب متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے عروج کے موسم میں سڑکوں کی بندش نے ہوٹل انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

آزاد کشمیر کے موجودہ مسائل کا حل کیا ہے؟

کرنل (ر) شیراز نے موجودہ بحران کے حل سے متعلق سوال پر کہا کہ حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ایک کونسل تشکیل دی جائے جو تمام نکات پر تفصیلی غور کرے اور قابل عمل حل سامنے لائے۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: پونچھ کے امیدوار راولپنڈی میں بھی کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے

ان کے مطابق بجلی اور آٹے کے معاملات پر بھی حقیقت پسندانہ فیصلے کیے جانے چاہییں اور سرحدی علاقوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

کیا عام انتخابات بروقت ہو جائیں گے؟

آزاد کشمیر میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر حالات جلد معمول پر آ جاتے ہیں تو انتخابات بروقت ہو سکتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو انتخابات مؤخر کرنے پر بھی غور کیا جانا چاہیے کیونکہ موجودہ ماحول میں سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابی مہم چلانا مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی عمل کے آغاز سے عوام کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کیا جا سکتا ہے اور سیاسی خلا کو پر کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی خلا نے ایکشن کمیٹیوں کو جنم دیا

کرنل (ر) شیراز نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں سیاسی عدم استحکام اور حکومتوں کی بار بار تبدیلی نے عوام میں مایوسی پیدا کی۔

ان کے مطابق یہی سیاسی خلا جوائنٹ ایکشن کمیٹی جیسی تحریکوں کے ابھرنے کی بڑی وجہ بنا۔

’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کشمیر پالیسی‘

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کرنل (ر) شیراز نے کہا کہ وہ انہیں اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ فرنٹ فٹ پر کھیلتے ہیں اور جرات مندانہ انداز میں فیصلے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی بڑی آبادی، وسیع دفاعی بجٹ اور دیگر وسائل کے باوجود پاک فوج نے جس انداز میں بھارتی اقدامات کا جواب دیا، وہ لائق تحسین ہے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر : ہزاروں ایڈہاک ملازمین مستقل، ’اللہ تعالیٰ کا شکر جس نے یہ توفیق دی‘، وزیراعظم فیصل راٹھور

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر آج بھی بنیادی مسئلہ ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں کشمیری عوام کا معاملہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی کے ایک اور کیس کا فیصلہ آگیا، محمودالرشید، عمر چیمہ، اعجاز چوہدری، یاسمین راشد کو 10،10 سال قید کی سزا، شاہ محمود بری

ایران جنگ کے بعد چین کا سفارتی اثر و رسوخ بڑھ گیا، سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ

یلو اسٹون میں خلائی مخلوق کی تلاش، سائنسدانوں کی تحقیق سے مریخ پر زندگی کے شواہد ملنے کی امید

امریکا اور ایران کے ایلچی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ، سیز فائر کے باوجود لبنانی علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری

پاک فوج میں بغاوت کی بات کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے، کشمیری قیادت کا مطالبہ

ویڈیو

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، اسلام آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر

شہباز شریف کا وعدہ پورا، پیٹرول کی قیمت میں 74روپے کمی، امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو کھری کھری سنادیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کو خراج تحسین

فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا، جنگ ختم نہ ہونے پر پیٹرول کی قیمت 10ہزار روپے ہوتی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘