امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اگر چاہتے تو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک تمام اہم شخصیات کو ایک ہی حملے میں نشانہ بنا سکتے تھے، تاہم ایسا نہیں کیا گیا تاکہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا ایرانی قیادت کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر موجود تمام اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا، لیکن مذاکرات کے عمل کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔
Trump also said he was surprised to see some Iranians crying at the funeral because he thought people hated Khamenei: “Maybe it’s fake tears.” https://t.co/1q2aXugWxK pic.twitter.com/an2UGguaCV
— Republicans against Trump (@RpsAgainstTrump) July 4, 2026
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی ایک معاہدے کے لیے بے تاب ہیں، تاہم دونوں فریقوں نے آخری رسومات مکمل ہونے تک ایک ہفتے کے لیے مذاکرات روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس دوران نہ امریکا اور نہ ہی ایران ایک دوسرے پر حملہ کرے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا وہ سب وہاں موجود ہیں، ایک ہی حملہ کافی ہوتا اور ہم سب کو ختم کر سکتے تھے، مگر ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پھر ہمارے پاس مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں بعض ایرانیوں کو روتے دیکھ کر حیرت ہوئی، کیونکہ ان کے بقول انہیں یقین تھا کہ ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید وہ آنسو بھی مصنوعی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ایران معاہدہ: نیتن یاہو کے لیے سب سے تشویشناک لمحہ، سی این این کی رپورٹ
امریکی صدر کے ان بیانات پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی عمل قطر اور پاکستان کی ثالثی میں شروع ہوا، جس کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور جوہری پروگرام سمیت دیگر متنازع امور پر مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا اب بھی نازک سمجھی جا رہی ہے۔













