وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے باعث ادارے کی آمدن 88 ارب روپے سے بڑھ کر 115 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نومبر یا دسمبر تک خوردنی تیل اور آٹوموبائل سیکٹر کے لیے دو نئے فریٹ ٹرانسپورٹیشن منصوبے شروع کیے جائیں گے، جن سے ریلوے کی کارکردگی اور ملکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں ریلوے کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور جدید، سستی اور محفوظ نقل و حمل کے لیے ریلوے نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل استعداد میں بہتری لانے کے باعث ادارے کی آمدن 88 ارب روپے سے بڑھ کر 115 ارب روپے ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ کسی نئے انفراسٹرکچر یا رولنگ اسٹاک کے بغیر صرف بہتر انتظامی حکمت عملی اور مؤثر آپریشنل نظام کے ذریعے ممکن ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:حنیف عباسی کے خلاف پارلیمنٹ میں ویڈیو ریکارڈ کرنے والے شہری پر مقدمہ
حنیف عباسی نے کہا کہ نومبر یا دسمبر تک دو نئے فریٹ منصوبے متعارف کرائے جائیں گے، جن میں خوردنی تیل (ایڈیبل آئل) اور آٹوموبائل انڈسٹری کی ٹرانسپورٹیشن شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ریلوے کے ذریعے مال برداری سڑک کے مقابلے میں سستی، محفوظ اور زیادہ مؤثر ہوتی ہے، اسی لیے ترقی یافتہ ممالک پہلے ریلوے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور بعد میں سڑکوں پر توجہ دیتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب انہوں نے وزارت کا چارج سنبھالا تو فریٹ سروس کے لیے نہ مناسب کارگو موجود تھا اور نہ ہی کنٹینرز، اس کے باوجود پاکستان ریلوے نے فریٹ سیکٹر میں 27 فیصد ترقی حاصل کی اور مجموعی گروتھ 34 فیصد سے بڑھ کر 41 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ آپریشنل کارکردگی بھی 96 فیصد سے بہتر ہو کر 84 فیصد کی سطح پر آ گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت دونوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک ہر سال دالوں کی درآمد پر تقریباً 2 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے، حالانکہ پاکستان میں ان کی پیداوار بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ ریلوے حنیف عباسی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال
حنیف عباسی نے کہا کہ کسانوں کو زیادہ سہولتیں دینے اور زرعی شعبے میں توانائی کی لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پنجاب اور بلوچستان میں زرعی شعبے کے لیے سولرائزیشن کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں اور انہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعتی شعبے کو بھی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بجلی، گیس اور ٹیکسوں کی مسابقتی شرحیں فراہم کرنا ہوں گی تاکہ ملکی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہو سکے۔














