چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ آپریشن ’بنیان مرصوص‘ میں پاک فوج نے اللہ کے فضل سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ملک کے دفاع، امن کے قیام اور امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
پشاور میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آپریشن ’بنیان مرصوص‘ میں پاک فوج نے اپنے سے 6 گنا بڑے دشمن کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، عوام کی دعاؤں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے زمین بوس کیا، جو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا طاہر اشرفی کا سعودی قیادت کو خراجِ تحسین، حجاج کے لیے مثالی سہولیات کی فراہمی تاریخی کامیابی قرار
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگانے والے آج خود اعتراف کر رہے ہیں کہ اسلام آباد ’ارض السلام‘ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ کی قیادت نے خطے میں امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا، حتیٰ کہ دنیا کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں بھی پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔
مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کا قیام تمام مکاتبِ فکر اور مذہبی و قومی شخصیات کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیرانِ کرام، علمائے کرام، اہلِ سنت، اہلِ تشیع، اہلِ حدیث اور غیر مسلم برادری سمیت سب نے پاکستان کے قیام اور استحکام میں اپنا کردار ادا کیا، جبکہ پنجاب کی شمولیت میں غیر مسلم نمائندوں کے ووٹ بھی تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں مولانا طاہر اشرفی پر حملہ، پی ٹی آئی یوکے چیپٹر پر سنگین سوالات اٹھنے لگے
انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کسی ایک فرد یا جماعت کی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ اسے ملک کے ممتاز علما اور اکابرین نے طویل مشاورت کے بعد ترتیب دیا۔ مولانا اسماعیل سلفی، مفتی جعفر حسین، پروفیسر غفور احمد اور دیگر اکابرین نے آئین کے ہر لفظ پر غور کیا، اور اسے قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق تشکیل دیا۔
مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ آئین پاکستان تمام مکاتبِ فکر اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق کا ضامن ہے، اس لیے اس پر عمل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مدارس کے حوالے سے کہا کہ ملک میں مختلف دینی بورڈز اپنا کام کر رہے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا جائے، مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اور علمائے کرام نے ہمیشہ پاکستان، اسلام اور مسلمانوں کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔













