وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ، سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کی عالمی اکاؤنٹنگ معیارات سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیارات (آئی ایف آر ایس-9 اور آئی ایف آر ایس-14) سے استثنیٰ حاصل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی اس تجویز کو منظور کرنے کے بجائے ہدایت کی کہ وہ وزارتِ خزانہ اور وزارتِ قانون و انصاف سے مزید مشاورت کے بعد نظرِ ثانی شدہ سفارشات پیش کرے۔

گردشی قرضے کے خدشات اور استثنیٰ کی وجہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق سوئی سدرن اور سوئی ناردرن اس سے قبل بھی 3 سال تک اسی نوعیت کی رعایت حاصل کر چکی ہیں اور دونوں کمپنیوں کا مؤقف تھا کہ انہیں پرانے ’جنرلی ایکسیپٹڈ اکاؤنٹنگ پرنسپلز‘ (گیپ) کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:تاجروں کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیح، برآمدکنندگان اور ایس ایم ایز کو مزید سہولیات دیں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

یہ درخواست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ تقریباً 3.44 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی قوانین کا اطلاق کیا گیا تو دونوں کمپنیوں کو اپنے مالیاتی گوشواروں میں بھاری واجبات اور متوقع کریڈٹ نقصانات ظاہر کرنا ہوں گے، جن میں سے کئی رقوم کی وصولی ناممکن ہونے کے باعث کمپنیوں کی ایکویٹی (سرمایہ) شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام اور وزارتِ خزانہ کا مؤقف

اجلاس کے دوران وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ ’ریاستی ملکیتی اداروں (اونرشپ اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ 2023‘ کے موجود ہوتے ہوئے اس قسم کی چھوٹ دینا قانونی طور پر مناسب نہیں ہوگا۔

وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو)، جو انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت تمام سرکاری اداروں کی نگرانی کرتا ہے، نے بھی اس تجویز کی سخت مخالفت کی۔

 مانیٹرنگ یونٹ کا مؤقف تھا کہ بین الاقوامی اکاؤنٹنگ معیارات پر عمل درآمد شفافیت کے لیے ضروری ہے اور گردشی قرضے سے متعلق واجبات کو مالیاتی گوشواروں میں واضح طور پر ظاہر کر کے ان کی وصولی کا منصوبہ فراہم کیا جائے جو اس وقت حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان زیرِ غور ہے۔

بورڈ نامزدگیاں مسترد اور سمیڈا سے متعلق اہم فیصلہ

کابینہ کمیٹی نے ایک اور اہم فیصلے کے تحت پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور سیندک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پیٹرولیم ڈویژن کے 2 نامزد ارکان کی تقرری بھی مسترد کر دی اور قرار دیا کہ یہ تقرریوں کے اچھے طرزِ حکمرانی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں:قومی اقتصادی سروے : چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، شرح نمو 3.7 فیصد رہی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

کمیٹی نے ہدایت کی کہ قانون کے مطابق ہر بورڈ میں صرف ایک ایکس آفیشل(عہدے کے لحاظ سے) نمائندہ نامزد کیا جائے جس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔

مزید برآں وزارتِ صنعت و پیداوار کی سفارش پر ’اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ (سمیڈا) کو ایک قانونی اور غیر تجارتی ادارہ ہونے کے باعث ریاستی ملکیتی اداروں کی فہرست سے خارج کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اے آئی کے پھیلاؤ کے دوران نیویارک کا بڑا فیصلہ، بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ایک سالہ پابندی

اسلام آباد میں شدید گرمی سے متاثرہ پرندوں کی جان بچانے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز

ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد فیس لینے کا منصوبہ واپس لے لیا، تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی

ناروے کے تعلیمی نظام نے ایک شخص کی بچپن سے متعلق سوچ بدل دی، سوشل میڈیا پر بحث چھڑگئی

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟