ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیارات (آئی ایف آر ایس-9 اور آئی ایف آر ایس-14) سے استثنیٰ حاصل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی اس تجویز کو منظور کرنے کے بجائے ہدایت کی کہ وہ وزارتِ خزانہ اور وزارتِ قانون و انصاف سے مزید مشاورت کے بعد نظرِ ثانی شدہ سفارشات پیش کرے۔
گردشی قرضے کے خدشات اور استثنیٰ کی وجہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق سوئی سدرن اور سوئی ناردرن اس سے قبل بھی 3 سال تک اسی نوعیت کی رعایت حاصل کر چکی ہیں اور دونوں کمپنیوں کا مؤقف تھا کہ انہیں پرانے ’جنرلی ایکسیپٹڈ اکاؤنٹنگ پرنسپلز‘ (گیپ) کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:تاجروں کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیح، برآمدکنندگان اور ایس ایم ایز کو مزید سہولیات دیں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
یہ درخواست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ تقریباً 3.44 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
Finance Minister Chairs Meeting of CCoSOEs
The Cabinet Committee on State-Owned Enterprises (CCoSOEs) met today at the Finance Division under the chairmanship of the Federal Minister for Finance and Revenue, Senator Muhammad Aurangzeb.
The Committee considered two summaries… pic.twitter.com/zipN9QcWUi
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) July 9, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی قوانین کا اطلاق کیا گیا تو دونوں کمپنیوں کو اپنے مالیاتی گوشواروں میں بھاری واجبات اور متوقع کریڈٹ نقصانات ظاہر کرنا ہوں گے، جن میں سے کئی رقوم کی وصولی ناممکن ہونے کے باعث کمپنیوں کی ایکویٹی (سرمایہ) شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام اور وزارتِ خزانہ کا مؤقف
اجلاس کے دوران وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ ’ریاستی ملکیتی اداروں (اونرشپ اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ 2023‘ کے موجود ہوتے ہوئے اس قسم کی چھوٹ دینا قانونی طور پر مناسب نہیں ہوگا۔
وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو)، جو انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت تمام سرکاری اداروں کی نگرانی کرتا ہے، نے بھی اس تجویز کی سخت مخالفت کی۔
مانیٹرنگ یونٹ کا مؤقف تھا کہ بین الاقوامی اکاؤنٹنگ معیارات پر عمل درآمد شفافیت کے لیے ضروری ہے اور گردشی قرضے سے متعلق واجبات کو مالیاتی گوشواروں میں واضح طور پر ظاہر کر کے ان کی وصولی کا منصوبہ فراہم کیا جائے جو اس وقت حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان زیرِ غور ہے۔
بورڈ نامزدگیاں مسترد اور سمیڈا سے متعلق اہم فیصلہ
کابینہ کمیٹی نے ایک اور اہم فیصلے کے تحت پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور سیندک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پیٹرولیم ڈویژن کے 2 نامزد ارکان کی تقرری بھی مسترد کر دی اور قرار دیا کہ یہ تقرریوں کے اچھے طرزِ حکمرانی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ قانون کے مطابق ہر بورڈ میں صرف ایک ایکس آفیشل(عہدے کے لحاظ سے) نمائندہ نامزد کیا جائے جس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔
مزید برآں وزارتِ صنعت و پیداوار کی سفارش پر ’اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ (سمیڈا) کو ایک قانونی اور غیر تجارتی ادارہ ہونے کے باعث ریاستی ملکیتی اداروں کی فہرست سے خارج کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔













