استحکام پاکستان پارٹی وفاقی سیاسی قوت، عمران خان کے برعکس علیم خان کام زیادہ اور باتیں کم کرتے ہیں، گل اصغر خان

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پارلیمانی سیکریٹری برائے مواصلات اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے مرکزی رہنما گل اصغر خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ایک آزاد اور خودمختار سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے اور پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا لڑائی، دوبارہ حملے شروع؟ بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارت ملوث، بڑوں کی بڑی بیٹھک

انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی اب وفاقی سطح کی جماعت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان میں پارٹی نمایاں سیاسی حیثیت حاصل کر چکی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں 38 امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عوام روایتی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے مایوس ہیں جس کے باعث نئی سیاسی قوت کے لیے جگہ پیدا ہوئی ہے۔

گل اصغر خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف تینوں کو عوام ان کی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جن اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کے دعوے آج کیے جا رہے ہیں وہ ماضی میں کیوں پورے نہیں کیے گئے۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے اس کی ساڑھے 3 سالہ کارکردگی کو بھی دیکھا ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں گھروں اور روزگار کے وعدے کیے گئے لیکن ان کی رائے میں عوام کو اس کے مطابق نمایاں ترقیاتی نتائج نظر نہیں آئے۔

قیادت کی خصوصیات پر بات کرتے ہوئے گل اصغر خان نے کہا کہ ایک کامیاب رہنما کے پاس واضح وژن، مؤثر انسانی وسائل، مالی منصوبہ بندی اور مضبوط انتظامی صلاحیت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق صرف وژن ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں پنجاب کی قیادت کے لیے علیم خان زیادہ موزوں امیدوار تھے کیونکہ ان کے پاس کاروباری اور انتظامی تجربہ موجود تھا۔

سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے گل اصغر خان نے کہا کہ عمران خان کے سیاسی سفر میں جہانگیر ترین اور علیم خان نے اہم کردار ادا کیا اور ان کے لیے سیاسی و تنظیمی سطح پر بڑی قربانیاں تاہم بعد ازاں پیدا ہونے والے اختلافات کے نتیجے میں دونوں رہنما الگ راستوں پر چل پڑے۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ استحکام پاکستان پارٹی کو کسی خاص سیاسی مقصد کے لیے سامنے لایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسا ہوتا تو انتخابات میں ان کی جماعت کی کامیابی پر دھاندلی یا غیر معمولی سرپرستی کے الزامات سامنے آتے جبکہ ایسا نہیں ہوا۔

گل اصغر خان نے کہا کہ پارٹی کو عوامی حمایت کی بنیاد پر ووٹ ملے اور مختلف سیاسی شخصیات نے اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت جماعت میں شمولیت اختیار کی۔

آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے گل اصغر خان نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کا مقصد صرف نشستیں حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک جامع معاشی منصوبہ پیش کرنا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے لیے سیاحت، پن بجلی اور قدرتی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق جدید انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: استحکام پاکستان پارٹی کی آزاد کشمیر کی سیاست میں انٹری کے بعد ہلچل، کس جماعت کو نقصان پہنچے گا؟

پارلیمانی سیکریٹری برائے مواصلات کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں پر بات کرتے ہوئے گل اصغر خان نے کہا کہ وزارت نے پسماندہ علاقوں کے انفراسٹرکچر کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر تا حیدرآباد موٹروے منصوبے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ سابقہ انتظامی مسائل اور مالی مشکلات کے باعث منصوبہ تعطل کا شکار تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کو 5 حصوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ مختلف سیکشنز کے لیے الگ الگ مالی وسائل حاصل کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے منصوبے کے مختلف حصوں کی معاونت کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ باقی حصوں کے لیے بھی سرمایہ کاری کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

گل اصغر خان نے کہا کہ اسلام آباد، لاہور اور شمالی علاقوں کو بہتر شاہراہوں کے ذریعے منسلک کرنے کے مختلف منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور سے سیالکوٹ موٹروے مکمل ہو چکی ہے جبکہ سیالکوٹ سے کھاریاں تک تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں اور ہدف ہے کہ سال 2028 تک منصوبے کے اہم حصے مکمل کر لیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی موٹرویز کو زیادہ گنجائش کے ساتھ تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ آبادی اور ٹریفک میں اضافے کے باوجود شاہراہیں طویل عرصے تک مؤثر رہیں۔

سیاسی قیادت کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے گل اصغر خان نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں عمران خان اور علیم خان کا اندازِ قیادت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق عمران خان عوامی مقبولیت اور خطابت کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ علیم خان عملی انتظامی تجربے اور منصوبوں پر عملدرآمد کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان باتیں زیادہ اور کام کم کرتے تھے جبکہ علیم خان کام زیادہ اور باتیں کم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں عمران خان کی سب سے بڑی کمزوری مؤثر ٹیم سازی تھی جبکہ علیم خان ٹیم کے ساتھ مل کر کام کرنے اور انتظامی فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: تنویر الیاس اہم شخصیات سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شامل، آزاد کشمیر کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

گل اصغر خان نے کہا کہ ان کی رائے میں پنجاب کی سیاست میں نئی سیاسی قوت کے لیے اب بھی خاصی گنجائش موجود ہے اور استحکام پاکستان پارٹی مستقبل میں اس خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار