اغوا جس نے ایک ماں سے اس کی پوری دنیا چھین لی

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بعض کہانیاں صرف عدالتوں کی فائلوں میں نہیں لکھی جاتیں، بلکہ ایک ماں کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسو، اس کے خالی گھر، خاموش کھلونوں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی بے بسی میں زندہ رہتی ہیں۔ یہ بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جس میں ایک 2 سالہ بچی کو اس کے اپنے باپ نے ایک منظم منصوبے کے تحت ماں سے جدا کر دیا۔ وہ بچی اب 12 برس کی ہو چکی ہے، مگر اس کی ماں آج بھی اسی دن میں قید ہے، جس دن اس کی بیٹی اس سے چھین لی گئی تھی۔

یہ کہانی نادیہ رشید اور ان کی بیٹی انسیہ ہیمانی کی ہے، جس نے ایک خاندانی تنازع کو یورپ کے حساس ترین بین الاقوامی اغوا کیسز میں تبدیل کر دیا۔ تقریباً 10 برس سے جاری اس قانونی، سفارتی اور انسانی جدوجہد نے نیدرلینڈز اور بھارت دونوں کے لیے ایک مشکل آزمائش پیدا کر دی ہے۔

نادیہ رشید اور شہزاد ہیمانی کی ملاقات ممبئی میں ہوئی۔ دونوں نے 2011 میں شادی کی۔ یہ رشتہ بظاہر ایک خوبصورت آغاز تھا، لیکن نادیہ کے مطابق شادی کے فوراً بعد ہی اختلافات شروع ہو گئے۔ چند برس بعد ان کی بیٹی انسیہ ایمسٹرڈیم میں پیدا ہوئی اور پیدائش کے باعث ڈچ شہریت کی حق دار بنی۔

شادی شدہ زندگی میں کشیدگی بڑھتی گئی اور بالآخر دونوں کے درمیان بچی کی تحویل کا تنازع عدالتوں تک جا پہنچا۔ شہزاد ہیمانی نے دعویٰ کیا کہ نادیہ انسیہ کو غیر قانونی طور پر بھارت سے نیدرلینڈز لے گئی تھیں، تاہم 2015 میں ہیگ کی عدالت نے ان کا مؤقف مسترد کر دیا۔ اس کے بعد ڈچ عدالتوں نے متعدد فیصلے نادیہ کے حق میں دیے، جن میں انسیہ کا پاسپورٹ والد سے واپس لینے اور بچی کی عارضی تحویل ماں کے سپرد کرنے کے احکامات بھی شامل تھے۔

عدالتی فیصلوں کے باوجود تنازع ختم نہ ہوا۔ نادیہ کے مطابق ان کے سابق شوہر نے عدالت کے بجائے ایک ایسا راستہ اختیار کیا، جس نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔

29 ستمبر 2016 کی صبح ایمسٹرڈیم میں ہر روز کی طرح شروع ہوئی۔ نادیہ اپنی بیٹی کو اپنی والدہ کے گھر چھوڑ کر دفتر چلی گئیں۔ گھر میں انسیہ اپنی نانی کے ساتھ ناشتہ کر رہی تھی۔ باہر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دے رہا تھا، لیکن حقیقت میں گھر کے باہر کئی افراد پہلے ہی اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے۔

بعد میں عدالت میں پیش ہونے والی دستاویزات کے مطابق یہ پوری کارروائی کئی ہفتوں کی منصوبہ بندی کے بعد کی گئی تھی۔ اغوا کاروں نے نادیہ کی روزمرہ نقل و حرکت کا جائزہ لیا، گھر کی نگرانی کی اور اس لمحے کا انتظار کیا جب ماں دفتر روانہ ہو جائے۔

جونہی نادیہ گھر سے نکلیں، باہر موجود ایک شخص نے برنر فون کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو اشارہ دیا۔ چند لمحوں بعد 3 افراد سرکاری اہلکار بن کر دروازے پر پہنچے۔ انہوں نے خود کو میونسپلٹی کا عملہ ظاہر کیا اور دروازہ کھلتے ہی زبردستی گھر میں داخل ہو گئے۔ اس وقت 2 سالہ انسیہ بے خبر ہو کر ناشتہ کر رہی تھی۔

نادیہ کی بہن شور سن کر دوڑی، جبکہ نانی نے بچی کو بچانے کی پوری کوشش کی، مگر اغوا کار پہلے ہی منصوبہ بندی کے مطابق کارروائی کر رہے تھے۔ مزاحمت کے دوران ایک شخص نے نانی پر ٹیزر گن استعمال کی تاکہ دوسرے افراد بچی کو لے کر فرار ہو سکیں۔

اگرچہ ایک اغوا کار موقع پر ہی گرفتار ہو گیا، لیکن انسیہ اس وقت تک گاڑی میں بٹھائی جا چکی تھی۔

ڈچ پولیس نے فوری طور پر ملک گیر سرچ آپریشن شروع کیا اور ایمبر الرٹ جاری کر دیا، جو صرف ایسے مواقع پر جاری کیا جاتا ہے جب کسی بچے کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو۔ لیکن اغوا کار پولیس سے کئی قدم آگے تھے۔

وہ ایمسٹرڈیم سے تقریباً 32 کلومیٹر دور ایک طے شدہ مقام پر پہنچے، جہاں انسیہ کو دوسری گاڑی میں منتقل کیا گیا۔ اسی گاڑی میں اس کا والد شہزاد ہیمانی انتظار کر رہا تھا۔ اس کے بعد پورا گروہ مختلف گاڑیوں میں تقسیم ہو گیا تاکہ پولیس ان کا سراغ نہ لگا سکے۔

نادیہ رشید کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایک نجی طیارے کا انتظام کیا گیا، جس کے ذریعے انسیہ کو جرمنی سے نکالا گیا۔ ان کے مطابق سفر یونان، ترکی اور نیپال سے ہوتا ہوا بھارت پہنچا۔ عدالتی دستاویزات میں بھی اس سفر کو ایک 2 سالہ بچی کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا، کیونکہ اس کے پاس قانونی سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

بعد ازاں ایمسٹرڈیم کی عدالت نے قرار دیا کہ یہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ ایک ’منصوبہ بند، پیشہ ورانہ اور مکمل طور پر منظم آپریشن‘ تھا۔ عدالت نے کہا کہ ایک معصوم بچی کے اغوا کو باقاعدہ ایک منصوبے کی طرح ترتیب دیا گیا، جس میں سابق فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ افراد کی مہارت استعمال کی گئی۔

نادیہ آج بھی اس لمحے کو یاد کرتی ہیں تو ان کی آواز بھر آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں، میں اسے اغوا ہی کہوں گی، کیونکہ جس شخص نے اپنی ہی بیٹی کو چھیننے کے لیے کرائے کے تربیت یافتہ افراد کی خدمات حاصل کی ہوں، اسے اور کیا کہا جا سکتا ہے؟ کون سا باپ اپنی 2 سالہ معصوم بچی کو نامعلوم لوگوں کے حوالے کر کے اغوا کراتا ہے؟

یہ صرف ایک بچی کا اغوا نہیں تھا، بلکہ ایک ماں کی پوری زندگی اس سے چھین لی گئی تھی۔ اغوا کے چند ہی ہفتوں بعد شہزاد ہیمانی نے بھارت پہنچ کر نئی قانونی جنگ شروع کر دی۔ انہوں نے ممبئی کی فیملی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انسیہ اب ان کی تحویل میں ہے اور بچی کی کسٹڈی کا فیصلہ بھارت میں ہونا چاہیے۔

یہیں سے ایک ایسی قانونی کشمکش کا آغاز ہوا جو 2 ملکوں، دو عدالتی نظاموں اور دو مختلف قوانین کے درمیان الجھ کر رہ گئی۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ صرف ایک بچے کی حوالگی کا تنازع نہیں رہا بلکہ 2 مختلف قانونی نظاموں، 2 ممالک اور ایک ننھی بچی کی شناخت کی جنگ بن گیا۔ ہر نئی عدالت، ہر نئی درخواست اور ہر نئی سماعت کے ساتھ امید کی ایک کرن جاگتی، مگر پھر کوئی نئی رکاوٹ سامنے آ کھڑی ہوتی۔

برطانیہ میں عدالتوں نے کئی مواقع پر اس بات کا اظہار کیا کہ بچی کی مستقل رہائش (Habitual Residence)  برطانیہ تھی، اس لیے اسے وہیں واپس جانا چاہیے تاکہ وہاں کی عدالتیں اس کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ دوسری جانب بھارت میں قانونی کارروائیاں الگ سمت میں آگے بڑھتی رہیں، جہاں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ بچی اب بھارت میں رہ رہی ہے اور اس کے مفاد کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ ہونا چاہیے۔

یہی وہ مقام تھا جہاں ایک ماں کی ذاتی جدوجہد بین الاقوامی قوانین کی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گئی۔

’میں صرف اپنی بیٹی کو گلے لگانا چاہتی ہوں‘

ماں کے مطابق سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ نہیں تھا جب بچی اس سے جدا ہوئی، بلکہ وہ تھا جب اس نے محسوس کیا کہ وقت کے ساتھ اس کی بیٹی اس سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

وہ کہتی ہے کہ بچوں کی یادداشت بہت نازک ہوتی ہے۔ اگر برسوں تک ماں سے ملاقات نہ ہو تو بچہ آہستہ آہستہ اس کے چہرے، آواز اور لمس تک کو بھولنے لگتا ہے۔ اسی خوف نے اسے مسلسل قانونی جنگ جاری رکھنے پر مجبور رکھا۔

اس کا کہنا ہے کہ وہ عدالتوں میں صرف اس لیے نہیں جا رہی کہ کوئی مقدمہ جیت سکے، بلکہ اس لیے کہ اس کی بیٹی کو یہ معلوم رہے کہ اس کی ماں نے کبھی اسے چھوڑا نہیں تھا۔

ایک بچی، 2 شناختیں

اس پوری کہانی میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی شخصیت وہ بچی ہے جس کی زندگی کا ہر فیصلہ دوسرے لوگ کر رہے ہیں۔ ایک طرف اس کی پیدائش، ابتدائی پرورش اور زندگی کے ابتدائی سال برطانیہ میں گزرے، دوسری طرف گزشتہ کئی برس بھارت میں گزر چکے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق ایسے بچوں کو صرف قانونی تنازعات ہی متاثر نہیں کرتے بلکہ ان کی شخصیت، زبان، سماجی شناخت اور نفسیاتی استحکام بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بارہا اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ ایسے مقدمات میں والدین کی خواہشات سے زیادہ بچے کی طویل المدتی ذہنی اور جذباتی صحت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

بچوں کے سرحد پار اغوا (International Parental Child Abduction) کے مقدمات دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

بہت سے ممالک اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل کرتے ہیں تاکہ کسی ایک والدین کو یہ اجازت نہ ملے کہ وہ یکطرفہ طور پر بچے کو دوسرے ملک لے جا کر قانونی صورتِ حال تبدیل کر دے۔

تاہم جب کسی ایسے ملک کا معاملہ ہو جو متعلقہ بین الاقوامی فریم ورک کا حصہ نہ ہو یا جہاں مقامی عدالتیں الگ قانونی اصولوں کے مطابق فیصلے کریں تو تنازع کئی برس بلکہ بعض اوقات دہائیوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے مقدمات میں قانونی جنگ سے زیادہ اہم والدین کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون ہوتا ہے، کیونکہ بالآخر نقصان ہمیشہ بچے کا ہی ہوتا ہے۔

اس ماں کے پاس اپنی بیٹی کی چند پرانی تصاویر ہیں جنہیں وہ بار بار دیکھتی ہے۔

وہ کہتی ہے کہ ہر سال جب بچی کی سالگرہ آتی ہے تو وہ کیک ضرور خریدتی ہے، اگرچہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی بیٹی دنیا کے کس حصے میں، کس حالت میں اور کن لوگوں کے درمیان اپنی سالگرہ منا رہی ہوگی۔

اس کے مطابق سب سے زیادہ اذیت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی بڑھتی عمر کا حصہ نہیں بن سکی۔ اس نے اس کا اسکول کا پہلا دن نہیں دیکھا، نہ اس کی کامیابیاں، نہ اس کی ناکامیاں، نہ اس کے آنسو اور نہ ہی اس کی مسکراہٹیں۔

کیا کبھی یہ فاصلہ ختم ہوگا؟

اس سوال کا جواب شاید ابھی کسی کے پاس نہیں۔ عدالتوں میں مقدمات اپنی رفتار سے آگے بڑھتے رہیں گے، وکیل دلائل دیتے رہیں گے، فیصلے آتے رہیں گے اور شاید ان کے خلاف اپیلیں بھی ہوتی رہیں۔ لیکن اس تمام قانونی عمل کے دوران ایک حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔

ایک ماں آج بھی اپنی بیٹی کے انتظار میں ہے۔ وہ اب بھی یہ امید رکھتی ہے کہ ایک دن دروازہ کھلے گا، سامنے اس کی بیٹی کھڑی ہوگی اور برسوں کی جدائی ایک لمحے میں سمٹ جائے گی۔ شاید اس دن نہ عدالتوں کے فیصلے اہم رہیں، نہ سرحدیں، نہ پاسپورٹ، نہ شہریت۔ صرف ایک ماں ہوگی اور اس کی وہ بیٹی، جسے وہ برسوں سے صرف ایک بار گلے لگانے کی خواہش دل میں لیے جی رہی ہے۔

(بشکریہ انڈیپینڈنٹ)

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ میں طوفانی بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق، 3 زخمی

پاکستان جنوبی افریقہ انڈر 19 ویمنز ٹی 20 سیریز: تمام میچز میں مفت داخلے کا اعلان

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے آئندہ 2 سال کے لیے سربراہی سنبھال لی

19 سالہ چینی طالب علم نے 28 کروڑ روپے کی جائیداد بچپن کے دوست کے نام کر دی

وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال

ویڈیو

’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ